Al-Risala · June 1986 · page 10

اقدام سے پہلے

الرسالہ، جون ۱۹۸۶، صفحہ ۱۰

اسلام میں جنگ صرف بطور دفاع ہے۔ اسلام میں اصل چیز دعوت ہے۔ یعنی لوگوں کو پرامن طور پر اور حکیمانہ انداز میں حق کی طرف بلانا۔ یہی اسلامی عمل کا آغاز ہے اور یہی اس کا اختتام بھی۔ تاہم فریق ثانی اگر جارحیت سے باز نہ آئے تو اس سے دفاعی جنگ کی جائے گی۔

مگر دفاعی جنگ کے لیے بھی یہ شرط ہے کہ اس سے پہلے مسلمان نماز کو قائم کرنے والے بن چکے ہوں۔ نماز کیا ہے۔ نماز ایک مکمل دینی تربیت ہے۔ نماز میں یہ ہوتا ہے کہ موذن پکارتا ہے "آؤ فلاح کی طرف" اور تمام مسلمان اپنا کام چھوڑ کر اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ وہ اپنے کو پاک صاف کر کے نماز میں داخل ہوتے ہیں۔ نماز میں وہ بار بار اللہ اکبر کہہ کر اللہ کے بڑے ہونے اور اس کے مقابلہ میں اپنے چھوٹے ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔ تمام مسلمان صف بستہ ہو کر صرف ایک امام کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں۔ کوئی ایک شخص بھی ادھر ادھر منتشر نہیں ہوتا۔ نماز ختم ہونے کے بعد تمام نمازی دائیں بائیں رخ کر کے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہتے ہیں۔ اس طرح وہ ظاہر کرتے ہیں کہ دوسرے انسانوں کے لیے ان کے اندر خیر خواہی کا جذبہ اتنا بڑھا ہوا ہے کہ وہ ان کے لیے اللہ سے دعا کرنے والے بن گئے ہیں۔

یہی وہ نماز ہے جس کی اقامت کو جہاد سے پہلے لازم قرار دیا گیا ہے۔ مسلمان جب تک ان معنوں میں نماز کو قائم کرنے والے نہ بن چکے ہوں ان کے لیے جہاد و مقابلہ کے لیے نکلنا جائز نہیں۔ اس تربیتی کورس سے پوری طرح گزرنے سے پہلے صرف صبر کرنا ہے ۔ فریق ثانی خواہ کتنا ہی ظلم کرے انھیں یک طرفہ طور پر صرف صبر اور برداشت کے رویہ پر قائم رہنا ہے ۔ مسلمان اگر اس نماز پر اپنے آپ کو پوری طرح قائم کر لینے سے پہلے جہاد کی باتیں کریں تو وہ سراسر باطل ہوگا ۔ اس کا خدا اور رسول کے طریقے سے کوئی تعلق نہیں ۔

خدا نے جہاد کا جو طریقہ بتایا ہے وہ یہ ہے کہ اس سے پہلے پورے اہتمام کے ساتھ نماز قائم کی جائے۔ ایسی حالت میں جو لوگ نماز کی اقامت کے بغیر جہاد کی اقامت کا نعرہ لگائیں وہ بلاشبہ غلطی پر ہیں۔ وہ لوگوں کو ایک ایسے دین کی طرف بلا رہے ہیں جس کو انھوں نے خود گھڑا ہے ۔ اور جو دین خود گھڑا جائے وہ یقین طور پر صرف آدمی کی بربادی میں اضافہ کرے گا، وہ کسی حال میں آدمی کی کامیابی اور ترقی کا ذریعہ نہیں بن سکتا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1986 All issues

Printed page