اقدام سے پہلے
الرسالہ، جون ۱۹۸۶، صفحہ ۱۱
ایک تجربہ
1966کی بات ہے ۔ اس وقت میں ندوہ (لکھنؤ) میں تھا۔ ایک روز میں نے دیکھا کہ پولیس کی گاڑی ندوہ کے احاطہ میں آکر رکی ۔ اس میں سے کئی پولیس کے لوگ برآمد ہوئے ۔ ان کو ندوہ کے ذمہ داروں نے ٹیلی فون کر کے بلایا تھا تاکہ وہ ان کے ایک سنگین مسئلہ کو حل کریں۔
مسئلہ یہ تھا کہ ندوہ اور لکھنؤ یونیورسٹی دونوں بالکل پاس پاس ہیں ۔ یونیورسٹی کا ایک ہاسٹل ندوہ کی دیوار سے ملا ہوا ہے ۔ اس ہاسٹل کے لڑکے جو سب کے سب غیر مسلم تھے ندوہ والوں کو مسلسل پریشان کر رہے تھے ۔ وہ گالی دیتے ، پتھر پھینکتے ، مذاق اڑاتے اور طرح طرح کی نازیبا حرکتیں کرتے ۔ ان کا مقصد غالباً یہ تھا کہ ندوہ کے لوگ مشتعل ہو کر کوئی جارحانہ کارروائی کریں اور پھر یونیورسٹی کے لڑکوں کو ندوہ کے خلاف بھر پور فساد کرنے کا بہانہ ہاتھ آجائے ۔
یہ مسئلہ برسوں سے جاری تھا۔ ندوہ والوں نے پریشان ہو کر پولیس بلائی اور ان سے فریاد کی ۔ پولیس والے حسب دستور رسمی کارروائی کر کے واپس چلے گئے ۔ اور اصل مسئلہ بدستور اپنی جگہ باقی رہا۔ یہ مسئلہ اسی طرح چلتا رہا یہاں تک کہ 1974 میں ندوہ کے ذمہ داروں کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ یہ مسئلہ نہ پولیس کے ذریعہ حل ہو سکتا ہے اور نہ براہ راست ٹکراؤ کے ذریعہ اسے ختم کیا جاسکتا ہے ۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ اس کو تالیف قلب کے اسلامی اصول کو استعمال کر کے حل کیا جائے ۔ اس فیصلہ کے تحت مولانا علی میاں کے رفیق خاص مولانا اسحاق جلیس ندوی مرحوم اس کے ذمہ دار بنائے گئے ۔ منصوبہ کے مطابق مولانا اسحاق جلیس ندوی نے پہلے یہ پتہ لگایا کہ ہاسٹل کے لڑکوں میں لیڈر کون کون ہے ۔ انھوں نے ان لیڈروں سے ملاقات کی ۔ ان کو ندوہ میں نہایت اہتمام کے ساتھ چائے پر بلایا گیا ۔ ندوہ والوں نے ان " ظالم " لڑکوں سے ان کے ظلم اور بدتمیزی کے بارہ میں ایک لفظ نہیں کہا ۔ ان سے ساری ملاقات اور گفتگو اس طرح کی گئی جیسے کہ ندوہ والوں کو ان سے کوئی شکایت ہی نہیں ۔ پوری مدت میں ندوہ کے لوگ ان سے اس طرح معتدل انداز میں ملتے رہے جیسے کہ ان کی طرف سے ظلم و زیادتی کا کوئی واقعہ سرے سے پیش ہی نہیں آیا۔
ان گفتگوؤں اور ملاقاتوں کے نتیجہ میں ، عین پیشگی منصوبہ کے مطابق ، یہ ہوا کہ ندوہ کی ٹیم اور
‹ Previous page Next page › Contents of June 1986 All issues