Al-Risala · June 1986 · page 12

اقدام سے پہلے

الرسالہ، جون ۱۹۸۶، صفحہ ۱۲

یونیورسٹی کی ٹیم کے درمیان ہاکی میچ رکھا گیا۔ ندوہ کے لڑکے ہاکی کھیلنے میں مشہور ہیں۔ مگر انہیں پیشگی طور پر یہ سمجھا دیا گیا کہ تمہیں اس میچ میں جیتنا نہیں ہے۔ تم کو جان بوجھ کر خراب کھیل کھیلنا ہے تاکہ تم ہار جاؤ۔ منصوبہ یہ تھا کہ جان بوجھ کر یونیورسٹی کے لڑکوں کو کھیل میں جتا یا جائے اور پھر انہیں ہیرو بنا کر ان کے دل کو جیتنے کی کوشش کی جائے ۔

مقررہ تاریخ کو دونوں کے درمیان ہاکی میچ ہوا ۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق ندوہ کے نوجوان خراب کھیل کھیلے اور یونیورسٹی کے لڑکوں کو بالقصد یہ موقع دیا کہ وہ بہتر کھیل کھیل کر میچ جیتیں ۔ چنانچہ یہی ہوا۔ یونیورسٹی کے طلبہ ندوہ کے طلبہ کے مقابلہ میں ”شاندار طور پر“ کامیاب ہو گئے ۔ اب طے شدہ منصوبہ کے مطابق یونیورسٹی کے لڑکوں کو خوب اچھا لگایا۔ مختلف طریقوں سے ان کی تالیف قلب کی گئی۔ ان کو دل کھول کر انعامات دیئے گئے ۔ ان کا ہیروانہ استقبال کیا گیا ۔ وغیرہ یونیورسٹی کے طلبہ ندوہ والوں کے مقابلہ میں اپنی بڑائی چاہتے تھے اور ندوہ والوں نے یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو جھکا کر ان کی بڑائی کا اعتراف کر لیا ۔ ندوہ کے لوگوں نے اپنے مذکورہ عمل سے یونیورسٹی کے طلبہ کے جذبات برتری کو پوری طرح تسکین دے دی۔ اب مسئلہ اپنے آپ حل تھا ۔ یونیورسٹی کے طلبہ نے اس کے بعد پھر کبھی ندوہ والوں کو پریشان نہیں کیا۔

یہ ایک عظیم الشان مثال ہے جو یہ بتاتی ہے کہ ہندوستان کے فرقہ وارانہ جھگڑوں کا حل کیا ہے وہ حل یہ ہے کہ مسلمان یک طرفہ اقدام کے ذریعہ ہندو مسلم تناؤ کو ختم کر دیں ۔ وہ خود ”چھوٹے بھائی“ بن کر فریق ثانی کو ”بڑے بھائی“ کا درجہ دینے پر راضی ہو جائیں اور اس کے بعد ان کے تمام مسئلے یقینی طور پر حل ہو جائیں گے ۔

ندوہ کا مذکورہ واقعہ مزید اس جھوٹے اندیشہ کو غلط ثابت کرتا ہے کہ اگر ہم جھکیں گے تو وہ اور زیادہ دلیر ہو جائیں گے ۔ مذکورہ واقعہ میں ندوہ والوں نے واضح طور پر یک طرفہ جھکاؤ کا طریقہ اختیار کیا۔ اس کے نتیجہ میں بظاہر یہ ہونا چاہیے تھا کہ لکھنؤ یونیورسٹی کے غیر مسلم طلبہ کی ہمتیں اور زیادہ بڑھ جائیں۔ وہ پہلے سے زیادہ جری ہو کر ندوہ والوں کو ستانے لگیں ۔ ندوہ والوں کا نرم رویہ ان کو اور زیادہ سخت رویہ والا بنا دے۔ مگر ایسا قطعا نہیں ہوا بلکہ ندوہ والوں کے جھکاؤ نے انہیں بھی جھکا دیا۔ ایک فریق کی نرمی دوسرے فریق کو نرم کرنے کا سبب بن گئی ۔ جو مسئلہ دس سال سے ناقابل حل بنا ہوا تھا،

‹ Previous page Next page › Contents of June 1986 All issues

Printed page