اقدام سے پہلے
الرسالہ، جون ۱۹۸۶، صفحہ ۱۴
ہرگز شکست نہ ماننا، چاہے تم سب کے سب ہلاک ہو جاؤ۔ اپنے ذاتی حریف مکہ پیش کرنے کے لیے ان کے پاس تالیف قلب کا گلدستہ تھا۔ مگر جب وہ قوم کے سامنے آئے تو اس کو یہ کہہ کر اظہار کہ تم سیف الثار اور صمصام الاسلام بن کر اپنے حریف کا مقابلہ کرو۔ تقریر و خطابت کے لیے ان کے پاس دوسرا اسلام تھا اور عمل کے لیے بالکل دوسرا اسلام۔
قائدین کا یہی تضاد ملت کے تمام مسائل کا واحد سبب ہے۔ ہمارے قائدین اپنے ذاتی مسائل کو مفاہمت اور خوش تدبیری کے ذریعہ حل کر رہے ہیں؛ اور ملت کے نوجوانوں کو اپنی پر جوش تقریروں کے ذریعہ یہ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ لامتناہی طور پر اپنے حریفوں سے لڑتے رہیں۔ اسی تضاد کا یہ کرشمہ ہے کہ ہمارے قائدین خود تو ہر قسم کے جانی اور مالی نقصان سے بچے ہوئے ہیں، ان میں سے کسی کو کبھی کوئی زخم نہیں لگا۔ اور ملت کا حال یہ ہے کہ وہ بے فائدہ طور پر اپنا جان بھی برباد کر رہی ہے اور اپنا مال بھی۔ اگر اسلام کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ مجنونانہ اقدام کر کے اپنے مکانوں اور دکانوں کو نذر آتش کرایا جائے تو محترم قائدین کے مکان اور دکان کیوں نذر آتش نہیں ہوتے۔ اگر اسلام کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ آدمی مشتعل ہو کر لڑے اور شہید ہو جائے تو خودقائدین اپنے آپ کو اس فضل شہادت سے کیوں محروم کیے ہوئے ہیں۔ ندوہ سے ایک پندرہ روزہ اخبار نکلتا ہے جس کا نام ہے تعمیر حیات ، اس کی اشاعت جنوری ۱۹۸۵ میں ندوہ کے ذمہ دار کا ایک خصوصی انٹرویو چھپا ہے۔ اس کا جلی عنوان یہ ہے: مسلمانوں کو اس ملک میں اپنا وزن ثابت کرنا ہوگا ۔
اس انٹرویو میں ندوہ کے مذکورہ ذمہ دار نے فرمایا کہ کسی قوم یا فرقہ کا وزن اس وقت محسوس کیا جاتا ہے جب یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ نفع کے علاوہ نقصان بھی پہونچا سکتا ہے ۔ ندوہ کے مذکورہ ذمہ دار پچھلے ہیں سال سے ہندوستان کے مظلوم مسلمانوں کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ تم اپنے مسئلہ کے حل کے لیے نقصان رسانی کی اہمیت کا ثبوت دو۔ یہی مشورہ انھوں نے 1966 کے ہندستانی الیکشن میں مسلمانوں کو دیا تھا۔ مذکورہ انٹرویو کے مطابق اب بھی وہ قوم کو یہی مشورہ دے رہے ہیں ۔ "مفکر اسلام" کا یہ قیمتی مشورہ نعوذ باللہ خود پیغمبر اسلام کو بھی معلوم نہ تھا۔ ورنہ وہ مکہ کے مظلوم مسلمانوں کو حبش یا یثرب کی طرف ہجرت کرنے کا مشورہ نہ دیتے بلکہ یہ کہتے کہ قریش مکہ کو نقصان پہونچا کر تم اپنے لیے کو میں زندگی کا حق وصول کرو۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1986 All issues