Al-Risala · June 1986 · page 15

اقدام سے پہلے

الرسالہ، جون ۱۹۸۶، صفحہ ۱۵

عجیب بات یہ ہے کہ مذکورہ بزرگ نے خود اپنے ادارے کے مسئلہ کا حل یہ نکالا کہ ادارہ کے لوگ اپنے حریف کے مقابلہ میں بالکل بے ضرر بن جائیں ۔ وہ یک طرفہ طور پر جھک کر فریق ثانی کی برتری تسلیم کر لیں مگر ملت کو وہ یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ تم میدان مقابلہ میں ڈٹ جاؤ ۔ تم اپنے حریف کو ضرر پہونچاؤ تم فریق ثانی کو جھکنے پر مجبور کر دو ۔ یہ تضاد بھی کیسا عجیب ہے کہ ایک انسان اپنے ذاتی معاملہ میں یک طرفہ طور پر فریق ثانی کے آگے جھک کر اپنے مسئلہ کو حل کر لیتا ہے اور ملت کو وہ یہ مشورہ دیتا ہے کہ تم اپنی ساری کمزوریوں کے باوجود فریق ثانی کو جھکا دو اور اس کو نقصان پہونچا کر اپنے مسئلہ کو حل کرو ۔ مسئلہ کے حقیقی حل کے لیے اکثر آدمی کو اپنی بڑائی کے بت کو توڑنا پڑتا ہے ۔ مذکورہ مثال میں ندوہ والوں نے یونیورسٹی والوں کے مقابلہ میں اپنی بڑائی کو توڑا ، اسی وقت یہ ممکن ہوا کہ مسئلہ کے حل کی راہیں کھلیں ۔ ذاتی معاملہ میں چوں کہ آدمی سنجیدہ ہوتا ہے ، وہ فوراً اپنی ذاتی بڑائی کے بت کو توڑنے پر راضی ہو جاتا ہے ۔ وہ مسئلہ کے حل کو اصل قرار دیتا ہے نہ کہ اپنی ذات کی بڑائی کو ۔ مگر ملت کے معاملہ میں لوگ اتنا سنجیدہ نہیں جتنا وہ ذاتی مفاد کے معاملہ میں سنجیدہ ہوتے ہیں ۔ اس لیے یہاں وہ اپنی بڑائی کے بت کو نہیں توڑتے ۔ ذاتی مفاد کے معاملہ میں ہر شخص اپنی بڑائی کو توڑتے ہوئے ہے مگر ملت کے مفاد کے معاملہ میں کوئی شخص اپنی بڑائی کو توڑنے پر راضی نہیں ۔

مذکورہ انٹرویو میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ " اخلاقی قیادت کر کے مسلمان ہندوستان کی ناگزیر ضرورت بن سکتے ہیں " یہ بات بذات خود صحیح ہے۔ مگر اپنی موجودہ شکل میں وہ یہ اسر نا کافی ہے۔ ندوہ کے مذکورہ بزرگ کو اپنے اس مشورہ کے ساتھ اپناہم ۱۹۱۷ء کا تجربہ بھی بتانا چاہیے ۔ انھیں اسی کے ساتھ اس کا بھی اعلان کرنا چاہیے کہ لکھنؤ یونیورسٹی کے غیر مسلم طلبہ کے مقابلہ میں انھوں نے کس تدبیر کے ذریعہ اخلاقی فتح حاصل کی تھی ۔ وہ تدبیر ایک لفظ میں یک طرفہ جھکاؤ تھی ۔ انھوں نے یونیورسٹی کے طلب کے مقابلہ میں یک طرفہ طور پر ہار قبول کی ۔ انھوں نے یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو چھوٹا بنایا ۔ انھوں نے یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو نرم رویہ کا پابند کیا ۔ انھوں نے یک طرفہ طور پر یہ ذمہ داری کی کہ وہ اپنے آپ کو مقابلہ آرائی کے مقام سے ہٹائیں ۔ ندوہ والوں کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کو اخلاقی قیادت کا درس دیتے کے ساتھ یہ بھی ضرور بتائیں کہ اس راز از ایک طرفہ جھکاؤ ہے اور اس کا کامیاب تجربہ وہ خود ۱۹۱۷ء میں کر چکے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1986 All issues

Printed page