Al-Risala · June 1986 · page 18

اردو صحافت اور اخلاقیات

الرسالہ، جون ۱۹۸۶، صفحہ ۱۸

اردو صحافت اور اخلاقیات

اردو صحافت اور اخلاقیات ـــــــــ باعتبار واقعہ ایک متضاد ترکیب ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کہا جائے کہ غضبناک آدمی اور خوش اخلاقی ، نیم کی پتی اور شیرینی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اخلاقیات ایک مثبت رویہ کا نام ہے ، اور اردو صحافت بطور واقعہ کبھی مثبت چیز تھی ہی نہیں۔ اردو صحافت تمام تر رد عمل کے طور پر ظہور میں آئی۔ اور یہ ایک معلوم بات ہے کہ رد عمل ہی کے رویہ کا دوسرا نام منفی رویہ ہے۔ لکھنو کے ایک مسلم اخبار (قائد) نے ایک بار اردو صحافت کی پالیسی کو احتجاجی پالیسی کا عنوان دیا تھا۔ اخبار مذکور نے یہ بات بطور فخر کہی تھی ، مگر میں اس کو بطور واقعہ تسلیم کرتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ یہ صحیح ترین لفظ ہے جو اردو صحافت کے لیے بولا جاسکتا ہے ۔ اردو صحافت بنیادی طور پر ایک احتجاجی صحافت ہے۔ اور احتجاجی صحافت بلاشبہ اخلاقیات کی نفی ہے ۔ اردو صحافت مسلم مسائل کو پیش کرنے کے لیے وجود میں آئی نہ کہ حقیقت واقعہ کو بیان کرنے کے لیے ۔ گویا کہ موجودہ اردو اخبارات مسلمانوں کے صحافی وکیل ہیں۔ وہ حقیقت کو غیر جانبدارانہ طور پر بیان کرنے والے نقیب نہیں ۔ " اخلاقیات " ایک مثبت اصطلاح ہے۔ اگر میں اخباری اخلاقیات کا تعین کروں تو اس کے اجزاء سادہ طور پر غالباً حسب ذیل ہوں گے :

1- مثبت نقطہ نظر کا حامل ہونا ، ایسا نقطہ نظر جو کسی قسم کے مخالفانہ حالات سے بطور رد عمل نہ بنا ہو ، بلکہ خود اپنی ایجابی غور و فکر سے وجود میں آیا ہو۔

۲- حالات کے مطابق واقعہ رپورٹنگ ۔

۳- قومی اور بین اقوامی مسائل کا منصفانہ تجزیہ ۔

اب میں ان تینوں پہلوؤں کے اعتبار سے اردو صحافت پر مختصرأً اظہارِ خیال کروں گا۔ مثبت نقطہ نظر کا فقدان اردو صحافت کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ اس طرح وجود میں نہیں آئی کہ اس کے بانیوں اور معماروں نے انسانی حقیقتوں پر غور کیا۔ انھیں اس قسم کی کوئی ابدی حقیقت دریافت ہوئی جیسی حقیقت ایک سائنس داں دریافت کرتا ہے اور پھر یہ لوگ اس دریافت سے بے چین ہو کر اس کے اظہار کے لیے صحافت

‹ Previous page Next page › Contents of June 1986 All issues

Printed page