اردو صحافت اور اخلاقیات
الرسالہ، جون ۱۹۸۶، صفحہ ۱۹
کے میدان میں داخل ہ گئے ۔ اس کے برعکس اردو صحافت کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہمارے تقریبا تمام صحافی جس " اسکول آف جرنلزم " میں بنے وہ ان کے وقتی حالات تھے ۔ وہ اپنے وقتی اور قریبی حالات سے متاثر ہوئے اور اس کے بعد وہ اپنی جوابی نفسیات کے اظہار کے لیے صحافت کے میدان میں کود پڑے۔ ان میں سے کسی نے اپنے اخبار کا نام سیدھے طور پر " ندائے ملت " رکھ دیا اور کسی نے بظاہر دوسرا نام رکھا۔ مگر ہمارا ہر اخبار حقیقتاً ندائے ملت ہوتا ہے نہ کہ ندائے حقیقت ۔
یہ ایک واقعہ ہے کہ اردو صحافت ، وہ اردو صحافت جس کی نمائندگی اس ملک میں مسلمانوں نے کی ہے ، وہ اپنے آغاز ہی سے رد عمل کی پیدا وار رہی ہے۔ مسلمانوں کے تمام اردو اخبارات کسی نہ کسی " دشمنِ اسلام " کے خلاف رد عمل کے طور پر وجود میں آئے ۔ دہلی کے ایک اخبار نے اپنے صفحہ اول کی ایک جلی سرخی ان الفاظ میں قائم کی تھی :
" آگ اور خون میں نہائے ہوئے مسلمان سوال کرتے ہیں "
یہ سرخی بتاتی ہے کہ اردو اخبارات کس قسم کے ذہن کے تحت چلائے جا رہے ہیں ۔ وہ ذہن یہی ہے کہ وہ " خون آلود " مسلمانوں کے نمائندہ بن کر ان کی طرف سے ان کے " مفروضہ " دشمنوں کے خلاف مضامین اور خبریں چھاپتے رہیں ۔ اردو صحافت ایک قسم کی وکیلانہ صحافت ہے نہ کہ کوئی اخلاقی صحافت۔ وکیلانہ رویہ اور اخلاقی رویہ میں یہ فرق ہے کہ وکیل صرف اپنے مؤکل کو دیکھتا ہے اور اخلاقی رویہ کی نگاہ ہمیشہ وسیع تر حقیقتوں کی طرف ہوتی ہے ۔ وکیل محدود و مفاد کا نمائندہ ہوتا ہے اور اخلاق آفاقی صداقت کا نمائندہ ۔
یہ بات اردو صحافت میں اتنی زیادہ عام ہے کہ وہی اخبارات سب سے زیادہ کامیاب ہوتے ہیں جو سب سے زیادہ وکیلانہ رویہ کا مظاہرہ کریں ۔ لکھنؤ کا ایک اخبار جس کی اشاعت 1965 میں بمشکل ایک ہزار رکھتی وہ ۶۸ - ۱۹۶۷ میں مخالف کانگریس تحریک (Non-Congressism) میں شریک ہو گیا ۔ اس نے دھواں دھار طور پر مسلمانوں کی موافقت اور فرقہ پرست حکومت " کی مخالفت شروع کر دی ۔ وہ نام نہاد " معاہداتی سیاست " کا نقیب بن گیا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی اشاعت اچانک ایک ہزار سے بڑھ کر سولہ ہزار تک پہونچ گئی۔ بعد کو جب معاہداتی سیاست ناکام ہو گئی تو اس اخبار کی اشاعت دوبارہ ایک ہزار سے بھی کم تھی ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1986 All issues