My country, right or wrong.
الرسالہ، جون ۱۹۸۶، صفحہ ۲۴
My country, right or wrong.
کیا اخلاق اسی کا نام ہے ۔ اگر یہ اخلاق ہو تو دوسری کون سی چیز دنیا میں ہے جس کو اخلاق کے خلاف کہا جائے ۔
جھوٹی شکایت
اردو اخبارات کی رپورٹیں اور مضامین خواہ وہ جس موضوع پر بھی ہوں ، ان کا مشترک خلاصہ صرف ایک ہوتا ہے ۔ اور وہ ہے جھوٹی شکایت ۔ دوسروں کے بارہ میں جھوٹی شکایت ہمارے اخبارات کا سب سے زیادہ محبوب موضوع ہے۔
ان شکایتوں کو میں جھوٹی شکایت کیوں کہتا ہوں ، اس کی ایک مثال لیجئے ۔ ہمارے تمام اردو اخبارات مشترک طور پر اس بات کے شاکی ہیں کہ ملک کا قومی پریس (بڑے بڑے انگریزی اخبارات) مسلم معاملات کی صحیح رپورٹنگ نہیں کرتے ۔ ہر اردو اخبار بلا تکان اس شکایت کو کسی نہ کسی شکل میں دہراتا رہتا ہے ۔
مگر یہ شکایت سراسر بے معنی ہے۔ پہلی بات یہ کہ قومی پریس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ پوری ہندوستانی قوم کی مشترک ملکیت ہے ۔ وہ قومی پریس صرف اس معنی میں ہے کہ وہ پورے ملک میں پڑھا جاتا ہے ۔ وہ اردو اخبارات کی طرح صرف، ایک فرقہ کا اخبار (کمیونٹی پیپر) نہیں۔ پھر ان اخبارات میں جب دوسروں کا پیسہ لگا ہوا ہے ، جب دوسروں کے ذہن ان کو چلا رہے ہیں۔ اور دوسرے ہی لوگ ان کے اصل خریدار ہیں تو ایسے اخبارات آخر مسلم جذبات کی نمائندگی کیوں کریں گے ۔ اسباب کی اس دنیا میں یہ سراسر غیر حقیقت پسندانہ بات ہوگی کہ جن اخبارات کو تمام تر دوسرے لوگ چلا رہے ہوں ان سے ہم یہ امید رکھیں کہ وہ ہمارے اپنے جذبات کی ترجمانی کریں گے ۔ اس مطالبہ کے پیچھے دوسرا زور اخلاقی زور ہو سکتا تھا۔ یعنی ہم اپنے اردو اخبارات میں دوسروں کی باتوں کی صحیح ترجمانی کر رہے ہوں۔ اگر ہم فی الواقع ایسا کریں تو کم از کم اخلاقی طور پر ہمیں یہ امید رکھنے کا حق ہے کہ دوسرے بھی اپنے اخبارات میں ہماری باتوں کی صحیح ترجمانی کریں گے ۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے مطالبہ کے پیچھے یہ اخلاقی زور بھی موجود نہیں۔ کیوں کہ اس معاملہ میں اردو اخبارات کا حال انگریزی اخبارات سے بھی زیادہ برا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اردو اخبارات
‹ Previous page Next page › Contents of June 1986 All issues