Al-Risala · June 1986 · page 26

منصفانہ تجزیہ نہیں

الرسالہ، جون ۱۹۸۶، صفحہ ۲۶

مسٹر بال ٹھاکرے نے یہ روایت نقل کرنے کے بعد کہا کہ دیکھو مسلمانوں کے پیغمبر صاحب کا یہ حال تھا، مگر اب مسلمانوں میں اس قسم کی برداشت کہاں ہے :

But where is that kind of tolerance in this community now. مسٹر بال ٹھاکرے کا یہ مطبوعہ انٹرویو کسی بھی اردو اخبار میں نقل نہیں کیا گیا۔ البتہ اس کے بعد ہر اردو اخبار نے بلاتکان مسٹر بال ٹھاکرے کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ اردو اخبارات نے مسٹر بال ٹھاکرے کی بات کو نہایت بگڑی ہوئی صورت میں پیش کیا اور اس پر پرشور تبصرے کیے ۔ اردو اخبارات نے بال ٹھا کرے کی بات کو کچھ سے کچھ بنا دیا ۔ کیا اس کے بعد بھی ہم کو یہ حق ہے کہ ہم دوسروں کے جاری کردہ اخبارات سے یہ تقاضا کریں کہ وہ ہمارے معاملات کی ترجمانی صحیح انداز سے کریں۔ کیا اس کے بعد بھی اس میں کوئی شبہ باقی رہتا ہے کہ اردو صحافت اور اخلاقیات دونوں دو متضاد چیزیں ہیں جو کم ازکم اب تک ایک دوسرے کے ساتھ جمع نہیں ہوئیں ۔

منصفانہ تجزیہ نہیں

صحافتی اخلاقیات کا ایک جزو منصفانہ تجزیہ اور حقیقت پسندانہ تبصرہ ہے ۔ مگر اردو صحافت میں منصفانہ تجزیہ اتنا کم یاب ہے کہ بدرجہ امکان ہی اس کے وجود کو تسلیم کیا جا سکتا ہے ۔ جو لوگ منفی نفسیات میں مبتلا ہوں وہ کبھی مسائل کو بے لاگ انداز سے دیکھ نہیں سکتے ، اور جو لوگ مسائل کو بے لاگ انداز سے نہ دیکھ سکیں ان کے لیے یہ بھی ناممکن ہے کہ وہ مسائل کا منصفانہ اور حقیقت پسندانہ تجزیہ کریں۔ اردو صحافت اس اصول کی بدترین مثال ہے ۔

اردو زبان میں آج ہزاروں اخبار نکلتے ہیں اور ہر اخبار اپنی ہر اشاعت میں ایک اداریہ بھی ضرور شائع کرتا ہے ۔ مگر یہ ادارے بمشکل ہی اس قابل ہوتے ہیں کہ کوئی پڑھنے والا ان کو پڑھے ۔ ان تمام اداریوں کا ایک مشترک عنوان دینا ہو تو وہ " چیخ پکار " ہو گا ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مفروضہ تعصب اور امتیاز کے خلاف چیخ پکار کے سوا اردو اخبارات کے پاس کوئی اور بات ہی نہیں جس کو وہ اپنے تبصروں کا موضوع بنائیں۔ اور ظاہر ہے کہ اس قسم کی باتوں سے صرف کچھ سطحی لوگ دل چسپی لے سکتے ہیں۔ سنجیدہ لوگوں کو اس سے کوئی دل چسپی نہیں ہو سکتی ۔

اس سلسلہ میں ایک مثال لیجیے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1986 All issues

Printed page