Al-Risala · June 1986 · page 27

منصفانہ تجزیہ نہیں

الرسالہ، جون ۱۹۸۶، صفحہ ۲۷

مئی ۱۹۸۵ میں یہ واقعہ ہوا کہ چاند مل چوپڑا نامی ایک شخص نے کلکتہ ہائی کورٹ میں قرآن کے خلاف ایک رٹ پٹیشن داخل کیا۔ اس میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ قرآن تشدد کی تعلیم دیتا ہے، اس لیے اس ملک میں اس کی اشاعت اور تقسیم کو قانونی طور پر بند کر دیا جائے۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے اس پٹیشن کو سماعت کے لیے منظور کر لیا۔ اس کے بعد ، مئی ۱۹۸۵ کو جسٹس بی سی باسک نے وہ تاریخی فیصلہ دیا جو تمام اخبارات میں چھپ چکا ہے ۔

اس کیس کے بارے میں حسب معمول اردو اخبارات میں پر شور مضامین چھپے ۔ ان میں ایسے بھی تھے جنھوں نے اس قسم کی زبان استعمال کی کہ " چوپڑا کا کھوپڑا خراب ہو گیا ہے " اور ایسے بھی تھے جنھوں نے اس سے مختلف زبان میں اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ تاہم سب کا مشترک خلاصہ ایک تھا ۔ اس کے خلاف اندھا دھند احتجاج ۔

کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے کئی ماہ بعد ستمبر ۱۹۸۵ میں ایک اردو جریدہ نے اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا :

" یہ ایک بڑا خوفناک واقعہ ہے جو پہلے دنوں ہوا۔ عدالت نے اس استغاثہ پر کوئی با قاعدہ فیصلہ دینے کے بجائے معاملے کو گول مول چھوڑ کر اس کو اپنے ریمارکس کے ساتھ محض روک دیا۔ گویا شرارت کا دروازہ اب بھی بند نہیں ہے "

جن لوگوں نے اصل فیصلہ کو دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ اردو جریدہ کے یہ الفاظ سراسر واقعہ کے خلاف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کلکتہ ہائی کورٹ نے معاملے کو گول مول نہیں چھوڑا۔ بلکہ اس کو قطعی طور پر خارج کر دیا۔ جسٹس بمل چندر باسک کے ۸ صفحات کے فیصلے کے آخر میں پیرا گراف نمبر ہم کو پڑھیے ۔ اس میں واضح طور پر یہ الفاظ موجود ہیں :

For the aforesaid reasons this application stands dismissed. یعنی مذکورہ حقائق کی بنا پر یہ درخواست ڈسمس کی جاتی ہے ۔

یہ اخلاق کی کون سی قسم ہے کہ عدالت کے ایک صحیح فیصلے کا اعتراف نہ کیا جائے اور اس کے بارہ میں ایسے الفاظ لکھے جائیں جس سے اس کا وقار غیر ضروری طور پر مجروح ہوتا ہو ۔ اس قسم کے صحافتی تبصرہ کو صحافتی تبصرہ کے بجائے صحافتی الزام کہنا زیادہ صحیح ہوگا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1986 All issues

Printed page