Al-Risala · June 1986 · page 31

غیر تعمیری ذوق

الرسالہ، جون ۱۹۸۶، صفحہ ۳۱

ایک سفر

19 مارچ ۱۹۸۶ کی شام کو مجھے دہلی سے پونہ جانا تھا۔ میں "رپورٹنگ ٹائم" پر ایئر پورٹ پہنچا۔ ابتداً انڈین ایئر لائنز نے اطلاع دی کہ فلائٹ بالکل وقت پر ہے۔ مگر بعد کو بالکل آخر وقت میں اعلان ہوا کہ جہاز ایک گھنٹہ لیٹ ہے۔ اس ملک کا معاملہ عجیب ہے۔ بس سے سفر کیجئے تو بھیڑ کا خطرہ، کار سے سفر کیجئے تو ایکسیڈنٹ کا خطرہ، ٹرین سے سفر کیجئے تو چین پلنگ کا خطرہ۔ ہوائی جہاز سے سفر کیجئے تو یہ خطرہ کہ اچانک کسی "ٹیکنکل سبب" سے جہاز لیٹ ہو جائے گا۔

یہ بلاشبہ وقت کا ضیاع ہے اور ناقابل بیان قومی نقصان ہے۔ تاہم ایمان ایک ایسی نعمت ہے جو آدمی کو ہر نقصان سے بچانے کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ مومن کا معاملہ عجیب ہے کہ ہر چیز اس کے لیے خیر بن جاتی ہے۔ سب کچھ ٹھیک اندازہ کے مطابق ہو تو مومن کے اندر شکر کا جذبہ ابھرتا ہے۔ اور اگر اس کا اندازہ بگڑ جائے تو وہ عرفت ربی بفسخ العزائم کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ ایمان کسی آدمی کے لیے اس بات کی ضمانت ہے کہ اس کی ناخوش گواریاں بھی خوش گواریوں میں تبدیل ہو جائیں گی۔

میرا ٹکٹ یکم مارچ کو انڈین ایئر لائنز کے دہلی آفس سے خریدا گیا تھا۔ اس وقت اس کی قیمت ۲۱۲۸ روپیہ تھی۔ مگر اس کے بعد اعلان ہوا کہ ۱۸ مارچ سے انڈین ایئر لائنز کی تمام پروازوں کے کرائے بڑھا دیئے گئے ہیں۔ میرا سفر ۱۹ مارچ کو شروع ہو رہا تھا۔ چنانچہ ایئر پورٹ پر مزید ۱۳۶ روپے ادا کر کے بورڈنگ پاس ملا۔ میں نے سوچا کہ اگر میں یہ اصرار کروں کہ میرے پاس جو ٹکٹ ہے، اسی ٹکٹ پر مجھے سفر کا اجازت نامہ ملنا چاہیے تو یہ ناممکن ہے۔ یہ دنیا تبدیلیوں کی دنیا ہے۔ یہاں کبھی آدمی کو سابقہ ٹکٹ پر جگہ مل جاتی ہے۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے پاس ٹکٹ ہوتا ہے۔ پھر بھی اس کو سواری میں جگہ نہیں دی جاتی جب تک وہ موجودہ ٹکٹ کے علاوہ اپنی اہلیت کا مزید ثبوت نہ دے۔ جو لوگ صرف اتنا جانتے ہوں کہ جب ایک ٹکٹ میری جیب میں ہے تو مجھ کو ضرور جگہ ملے گی، انھیں شکایت نہیں ہونی چاہیے اگر اس بدلتی ہوئی دنیا میں وہ اپنی جگہ حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔

ایک گھنٹہ انتظار کے بعد جہاز کے اندر داخل ہوئے۔ اس کے اندر اس کا سیٹ گزین

‹ Previous page Next page › Contents of June 1986 All issues

Printed page