We wish you a comfortable journey.
الرسالہ، جون ۱۹۸۶، صفحہ ۳۲
رسوگت مارچ ۱۹۸۶) تھا۔ میں اس کو لے کر پڑھنے لگا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ انڈین ایئر لائنز دنیا کی چند انتہائی وسیع قسم کی ایئر لائنز میں سے ہے۔ اس کے پاس مختلف قسم کے جہازوں کا بہت بڑا دستہ ہے ۔ وہ روزانہ ۷۰ سے زیادہ ہوائی سروس چلاتی ہے جو ملک کے ۷۴ مقامات پر اترتے ہیں۔ اس کے علاوہ نیپال، پاکستان، افغانستان، سری لنکا، مالدیپ، بنکاک، ، بنگلہ دیش تک بھی اس کے جہاز جاتے ہیں ۔ اس کے معاہدے مختلف انٹرنیشنل ہوائی کمپنیوں سے ہیں ۔ اس لیے آپ جہاں کہیں بھی ہوں انڈین ایئر لائنز کو آپ ہر جگہ اپنی خدمت کے لیے موجود پائیں گے :
So wherever you are Indian Airlines is always within reach. جہاز ابھی ہوائی اڈہ پر کھڑا تھا اور میں اس میں داخل ہو کر اس کے میگزین میں یہ سب باتیں پڑھ رہا تھا کہ اچانک اعلان ہوا کہ تمام مسافر اس جہاز سے اتر جائیں ۔ آپ لوگوں کو دوسرے جہاز سے پونہ لے جایا جائے گا۔ چنانچہ تمام مسافر جہاز سے اتر کر دوسرے جہاز پر سوار ہوئے۔ اس عمل میں مزید تاخیر ہوئی اور جہاز پورے دو گھنٹہ لیٹ ہو گیا۔
جہاز کے میگزین میں یہ الفاظ نمایاں طور پر لکھے ہوئے تھے :
We wish you a comfortable journey.
اسی کے ساتھ ہندی رسم الخط میں اس کا ترجمہ ان الفاظ میں درج تھا : ہم آپ کی سکھد یاترا کے لیے کامنا کرتے ہیں ۔ میں نے سوچا کہ الفاظ بولنا کتنا زیادہ آسان ہے اور الفاظ کو عمل میں ڈھالنا اس کے مقابلہ میں کتنا زیادہ مشکل ۔
جہاز کے اندر اپنا بیگ رکھنے کے لیے میں نے اپنی سیٹ کے اوپر لگا ہوا خانہ (Overhead locker) کھولا ۔ مگر وہ چھوٹا تھا اور میرا ہینڈ بیگ اس میں نہیں آ رہا تھا ۔ میں اسی الجھن میں تھا کہ ایک مسافر نے مخالف سمت کے لاکر (خانہ) ) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں رکھ دیجئے ۔ میں نے اس کو کھول کر دیکھا تو وہ بڑا تھا ۔ چنانچہ اس میں میرا بیگ آسانی سے آ گیا آدمی ہمیشہ اپنے مسئلہ کا حل اپنے سامنے کے مقام پر تلاش کرتا ہے ۔ حالاں کہ اکثر حالات میں مسئلہ کا حل کسی اور مقام پر ہوتا ہے ۔ پونہ کے لیے یہ میرا چوتھا سفر تھا۔ تاہم پونا والوں سے میں نے کہا کہ یہ شاید پونا کے لیے میرا آخری سفر ہو۔ میری عمر اگر چہ بہت زیادہ نہیں مگر مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں قبل از وقت بوڑھا ہو گیا۔ اب
‹ Previous page Next page › Contents of June 1986 All issues