سڑک کا سبق
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۶، صفحہ ۴
سڑک کا سبق
شہر کی مصروف سڑکوں پر ہر وقت حادثہ کا خطرہ رہتا ہے ۔ چنانچہ ٹریفک کی رہنمائی کے لیے سڑکوں پر مختلف ہدایات لکھ دی جاتی ہیں ۔ ان ہدایات میں سے ایک یہ ہے کہ پٹری پر چلنا محفوظ چلنا ہے : Lane driving is sane driving. یعنی آدمی اگر پٹری کا پابند رہتے ہوئے اپنی سواری چلائے تو وہ اپنے آپ کو حادثات سے بچا سکتا ہے ۔ وہ اس خطرہ سے محفوظ رہ سکتا ہے کہ دوسری گاڑیوں سے اس کا ٹکراؤ ہو اور وہ اپنی منزل کی طرف بڑھنے کے بجائے قبرستان کی طرف بڑھنے پر مجبور ہو جائے۔
لندن کے ایک ڈرائیور نے ایک بار ایک مضمون شائع کیا اس میں اس نے ٹریفک کے مختلف اصول بتائے ۔ اس نے اپنے علم اور تجربے کی روشنی میں بڑی عجیب عجیب باتیں لکھی تھیں۔ مثلاً اس نے لکھا کہ آپ اپنی گاڑی سڑک پر دوڑاتے ہوئے چلے جارہے ہیں کہ اچانک سائیڈ کی گلی سے ایک گیند سڑک پر آگئی یہ گیند دیکھ کر آپ کو جاننا پڑتا ہے کہ اس کے پیچھے ایک بچہ بھی آرہا ہوگا ۔ اگر آپ صرف " گیند " کو دیکھیں اور " بچہ " کو نہ دیکھیں تو آپ اچھے ڈرائیور نہیں ہیں۔ اچھا ڈرائیور صرف وہ ہے جو گیند کو دیکھتے ہی بچہ کو بھی دیکھ لے ، اگرچہ اس وقت بچہ بظاہر اس کی آنکھوں کے سامنے نہ ہو۔ اگر ڈرائیور نے گیند کو دیکھ کر اپنی گاڑی کو بریک نہیں لگایا تو یقینی ہے کہ اگلے لمحہ اس کی گاڑی ایک بچہ کو سڑک پر کچل چکی ہوگی ۔ سڑک کا سفر زندگی کے سفر کا معلم ہے ۔ آدمی اگر چاہے تو سڑک کے سفر سے وہ سب کچھ سیکھ سکتا ہے جو اس کو زندگی کے زیادہ بڑے سفر کے لیے درکار ہے۔
اپنی سرگرمیوں کو ہمیشہ اپنے دائرہ میں محدود رکھیے ۔ اگر آپ نے دوسرے کے دائرہ میں مداخلت کی تو فوراً اس سے آپ کا ٹکراؤ شروع ہو جائے گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ کا جاری سفر رک جائے گا۔ اجتماعی زندگی میں جب خارج سے ایک علامت ظاہر ہو تو یہ جاننے کی کوشش کیجئے کہ اُس علامت کے پیچھے اور کیا باتیں ہیں جو اگرچہ موجود ہیں ۔ لیکن بروقت وہ دکھائی نہیں دے رہی ہیں۔ اگر آپ نے صرف دکھائی دینے والی چیزوں کو دیکھا اور جو چیزیں دکھائی نہیں دے رہی ہیں ان سے بے خبر رہے تو مقابلہ کی اس دنیا میں آپ کبھی کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1986 All issues