Al-Risala · July 1986 · page 5

دوسروں کا لحاظ

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۶، صفحہ ۵

دوسروں کا لحاظ

کیپ بیل را جرس پولٹری کے عالمی شہرت یافتہ ماہر ہیں۔ پولٹری (مرغ بانی) پر ان کی ایک مشہور کتاب ہے۔ یہ کتاب ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے : بڑے پیمانے کی کامیاب پولٹری فارمنگ بڑی حد تک ایک مزاجی کیفیت کا معاملہ ہے۔ کوئی شخص جو چڑیوں اور جانوروں کے لیے شفقت کا جذ بہ نہ رکھتا ہو وہ اس کام میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ پولٹری فارمنگ کے لیے سخت۔ اور صبر آزما قسم کا روٹین کا کام (Routine work) بے حد ضروری ہے۔ یہ کام ان لوگوں کو بہت اکتادینے والا معلوم ہوگا جو ایک ہی کام کو ہر روز کرنے کے عادی نہ ہو ، اور وہ بھی بغیر اس امید کے کبھی اس میں انقطاع یا تعطیل کا دن آسکتا ہے ۔

کامیابی ایک ٹھنڈے فیصلوں کا معاملہ ہے ، بغیر اس کے کہ آدمی اِدھر اُدھر مڑے یا ذہن کو بدلے۔ گہرائی کے ساتھ مشاہدہ، استدام، اور چھوٹی چھوٹی تفصیلات کی بہت بڑی تعداد پر مسلسل اور غیر منقطع توجہ۔

مرغبانی کے ماہر نے جو بات مرغبانی کے لیے کہی ہے وہی عام زندگی کے لیے بھی صحیح ہے۔ جس طرح مرغیاں پالنے والا شخص صرف اپنی مرضی پر نہیں چلتا بلکہ وہ مرغیوں کی عادات اور ان کی ضروریات کا لحاظ کرتا ہے۔ اسی طرح زندگی میں ہمیں دوسرے انسانوں کے مزاج اور ان کے مفادات کی رعایت کرنا ہے۔ دوسروں کی عزت کرکے ہی ہم دوسروں کے درمیان عزت پا سکتے ہیں۔ دوسروں کے لیے مفید بن کر ہی ہم دوسروں کو اپنے لیے مفید بنا سکتے ہیں۔ اس دنیا میں ذاتی کامیابی دراصل دوسروں کی کامیابی میں مددگار بننے کا نام ہے ، جو لوگ صرف اپنے کو جانیں اور دوسروں کو نہ جانیں وہ اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1986 All issues

Printed page