ناگزیر برائی
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۳۰
ناگزیر برائی
مسٹرڈی کے داس دہلی کے اعلیٰ ترین سرکاری افسران (Seniormost IAS officers) میں سے ایک تھے ۔ دہلی کی ایک پوش کالونی مدھوبن‘‘ میں ان کا بہت بڑا مکان تھا۔ مگر 3 اگست ۱۹۸۵ کو انھوں نے اپنے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کر لی۔ ان کی اہلیہ مسز ہینا داس ایک بجے دن میں ان کے کمرے میں داخل ہوئیں تو ان کا مردہ جسم چھت کے پنکھے سے بندھا ہوا لٹکا تھا۔ موت کے وقت مسٹر داس کی عمر ۵۶ سال تھی۔ وہ حال میں دہلی ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے چییرمین مقرر ہوئے تھے اور آئی اے ایس کے اسکیل کا آخری مشاہرہ پارہے تھے۔ اس کے باوجود مسٹر داس نے کیوں خودکشی کر لی۔ اس سلسلہ میں ہم دو اخباروں کی رپورٹ سے چند جملے یہاں نقل کرتے ہیں۔ پہلا اقتباس ہندوستان ٹائمس ۴ اگست کا ہے اور دوسرا ٹائمس آف انڈیا ۴ اگست کا ہے :
A businessman friend of Mr Das said the deceased bureaucrat was dissatisfied with many of the postings he got. He said that Mr Das often used to say that he was always given insignificant and ordinary positions. He was also depressed because he felt that he was not being given his due in the Delhi administration. مسٹر داس کے ایک تاجر دوست نے کہا کہ آنجہانی افسر اپنی کئی تقرری پر مطمئن نہ تھے۔ مسٹر داس اکثر کہا کرتے تھے کہ ان کو ہمیشہ غیر اہم اور معمولی پوزیشن دی جاتی ہے۔ وہ غیر مطمئن بھی تھے کیوں کہ وہ محسوس کرتے تھے کہ دہلی ایڈمنسٹریشن میں ان کو ان کی واجبی جگہ نہیں دی گئی ہے ۔ اس دنیا میں کوئی شخص اقلیتی فرقہ کا ہو یا اکثریتی فرقہ کا، معمولی ملازم ہو یا اعلیٰ عہدیدار، ہر حال میں اس کو کہیں نہ کہیں امتیازی برتاؤ کا تجربہ ہوتا ہے۔ امتیاز اس دنیا کی ناگزیر برائی ہے۔ اس دنیا میں کوئی شخص اس احساس سے بچ نہیں سکتا کہ اس کو وہ مقام نہیں دیا گیا جس کا وہ مستحق تھا۔ ایسی حالت میں عقلمندی یہ ہے کہ اس صورت حال کو گوارا کیا جائے۔ کیوں کہ اس کو گوارا نہ کرنا آدمی کو یا تو مایوسی کی طرف لے جاتا ہے یا خودکشی کی طرف ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues