حکمتِ اسلام
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۳۱
حکمتِ اسلام
حافظ ابو خیثمہ زہیر بن حرب النسائی (۲۳۴ - ۱۴۰ھ) نے اپنی کتاب العلم میں ایک روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے :
عن ابی عبد الرحمن ان علياً عليه السلام حضرت ابو عبد الرحمن عبد اللہ بن حبیب السلمی مرّ بقاص فقال : أتُعرفُ الناسخ تابعی کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک شخص من المنسوخ - قال لا . قال هلکتُ و کے پاس سے گزرے جو لوگوں کو جمع کر کے تقریر کر رہا اهلکْتَ (صفحه ۳۱) تھا۔ انھوں نے اس سے کہا : کیا تم جانے ہو کہ منسوخ کیا ہے اور ناسخ کیا۔ مقرر نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا تم خود بھی ہلاک ہوئے اور دوسروں کو بھی ہلاک کیا۔
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ناسخ اور منسوخ کا لفظ یہاں اس محدود مفہوم میں استعمال نہیں کیا ہے جو موجودہ زمانہ میں عام طور پر سمجھا جاتا ہے بلکہ اس سے وسیع تر معنوں میں استعمال کیا ہے جو کہ اس لفظ کا حقیقی مفہوم ہے۔ اس وسیع تر مفہوم کے لحاظ سے داعی اور مصلح کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے کہ وہ ناسخ اور منسوخ کے معاملہ کو جانے ۔ جو شخص ناسخ اور منسوخ کے معاملہ کو گہرائی کے ساتھ نہ جانتے وہ مصلح نہیں مفسد ہے۔ وہ اگر دعوت و اصلاح کے لیے اٹھتا ہے تو یقینی طور پر وہ خود بھی ہلاک ہوگا اور دوسروں کو بھی ہلاکت میں ڈالنے کا ذریعہ بنے گا۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ناسخ اور منسوخ کا تعلق چند مخصوص احکام سے ہے اور وہ ابدی ہے۔ مثلاً ہجرت کے بعد تقریباً ڈیڑھ سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھتے رہے۔ اس کے بعد سورہ بقرہ ( رکوع ۱۷) کی آیات اتریں اور پچھلا حکم منسوخ ہوگیا اور کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا۔ اسی طرح عام خیال یہ ہے کہ نسخ کے جو احکام ہیں وہ ابدی ہیں جو چیز منسوخ ہے وہ ہمیشہ کے لیے منسوخ ہے۔ اور جو چیز ناسخ ہے وہ ہمیشہ کے لیے ناسخ ہے۔ مگر یہ خیال درست نہیں۔ ناسخ اور منسوخ کا معاملہ نہ تو چند خاص احکام سے متعلق ہے اور نہ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues