ڈِیگال ازم
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۶، صفحہ ۱۳
ایک تاثر
۲۰ جنوری 1986 کو میں انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ نمبر ۳۹۴ کے ذریعہ دہلی سے حیدر آباد گیا۔ جہاز کے اندر حسب معمول اعلانات شروع ہوئے تو اناؤنسر نے دوسری باتوں کے ساتھ یہ بھی کہا : Captain Mustafa is in command. کیپٹن مصطفیٰ اس جہاز کے پائلٹ ہیں) انڈین ایئر لائنز میں میں نے بہت سفر کیے ہیں مگر "کیپٹن مصطفیٰ" جیسا لفظ پہلی بار سننے میں آیا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ مسلمان اب دیگر اعلیٰ سروسوں کے علاوہ اس ملک کی ہوائی سروسوں میں بھی داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ وہ اپنے پچھڑے پن کو ختم کر کے تیزی سے آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
ہندوستان کے مسلم لیڈر ہمیشہ اپنی قوم کے نوجوانوں کے بارے میں "نکالے جانے" کی خبریں دنیا کو سناتے ہیں۔ مگر یہ سراسر نا انصافی ہے۔ ان کو چاہیے کہ اسی کے ساتھ "داخل کیے جانے" کی خبریں بھی وہ دنیا کو سنائیں تاکہ لوگوں کو تصویر کا دوسرا رخ بھی معلوم ہو سکے ۔ مسلم قائدین کا یہ عمل یقینی طور پر غیر منصفانہ عمل ہے۔ اور غیر منصفانہ عمل کے لیے اس دنیا میں بربادی کے سوا کچھ اور مقدر نہیں۔ میں مانتا ہوں کہ اس ملک میں اگر ایسے واقعات ہیں کہ ایک "مصطفےٰ" کو سروس میں لیا گیا ہے تو اسی کے ساتھ ایسا واقعہ بھی موجود ہے کہ کسی "مصطفےٰ" کو سروس میں نہیں لیا گیا۔ مگر مجھے جس چیز سے اختلاف ہے وہ یہ کہ اس کو تعصب اور امتیاز قرار دیا جائے ۔ یہ دراصل زندگی کی ایک حقیقت ہے نہ کہ تعصب اور امتیاز ۔
اصل یہ ہے کہ یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ یہاں لازماً یہ ہوتا ہے کہ افراد اور قوموں کے درمیان دوڑ جاری رہے۔ اور پھر کوئی آگے بڑھے اور کوئی پیچھے رہ جائے۔ چڑیا گھر میں جو جانور ہوتے ہیں وہ کچھ دن کے بعد سست پڑ جاتے ہیں۔ چنانچہ ان کے کٹہرے میں وقتی طور ان کے دشمن جانور ڈالے جاتے ہیں تاکہ ان کے لیے دوڑنے اور بھاگنے کا ماحول پیدا کیا جائے ۔ یہ قدرت کا اصول ہے ، اور مقابلہ اور مسابقت کے اسی اصول میں زندگی کا راز چھپا ہوا ہے ۔ ایک واقعہ کو قومی تعصب کہیں تو صرف شکایت کا ذہن بنتا ہے، اسی واقعہ کو قومی مسابقت کہیے تو عمل کا جذبہ بیدار ہونے لگے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1986 All issues