Al-Risala · July 1986 · page 16

تاریخ سازی

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۶، صفحہ ۱۶

تاریخ سازی

بی ٹکمین (B. Tuchman) کا قول ہے کہ تاریخ غلط اندازہ کا ظہور ہے :

History is the unfolding of miscalculation.

اس کا مطلب یہ ہے کہ حال کے اعتبار سے مبصرین تاریخ کے بارہ میں ایک رائے قائم کرتے ہیں۔ مگر حال جب مستقبل بنتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندازے بالکل غلط تھے۔ مستقبل اکثر حالات میں اس سے مختلف صورت میں ظاہر ہوتا ہے جو ابتدائی طور پر سمجھنے والوں نے اس کے بارے میں سمجھا تھا۔ مثال کے طور پر6ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان صلح حدیبیہ ہوئی تھی۔ اس وقت قریش کے تمام لوگوں نے یہ سمجھا کہ مسلمانوں نے خود اپنے خاتمہ کے کاغذ پر دستخط کر دیتے ہیں۔ مگر بعد کے سالوں نے بتایا کہ اس بظاہر ہار میں فتح کا عظیم مستقبل چھپا ہوا تھا۔ موجودہ زمانہ میں ۱۹۴۵ میں جب امریکہ کے جنگی جہاز فضا میں چنگھاڑتے ہوئے جاپان پر ایٹم بم گرانے کے لیے روانہ ہوئے تو امریکہ کا اندازہ یہی تھا کہ وہ جاپان کو ہمیشہ کے لیے راکھ کا ڈھیر بنا رہا ہے۔ مگر اس واقعہ کے 40 سال بعد لوگوں نے دیکھا کہ جاپان دنیا کی سب سے بڑی صنعتی طاقت بن کر ابھر آیا ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی تاریخ کو بنانے والا خود انسان نہیں، یہ در اصل خدا ہے جو انسانی تاریخ کو اپنی مرضی کے مطابق کوئی ایک یا دوسری صورت دیتا ہے۔ تاریخ کی صورت گری کا فیصلہ غیب سے ہوتا ہے نہ کہ ظاہری احوال سے۔

تاریخ کے اس مطالعہ میں ان لوگوں کے لیے تسلی کا سامان ہے جن کے متعلق دنیا کے مبصرین سمجھ لیں کہ وہ بجھ چکے ہیں یا ان کو مٹا یا جا چکا ہے۔ کیوں کہ واقعات بتاتے ہیں کہ اس دنیا میں بظاہر بجھی ہوئی راکھ سے شرارے ظاہر ہو جاتے ہیں۔ یہاں ایک مٹی ہوئی شئی دوبارہ زندہ اور اور طاقتور بن کر زمین پر کھڑی ہو جاتی ہے۔ یہاں بظاہر ایک ختم شدہ طاقت (Spent force) از سر نو زندہ طاقت بن جاتی ہے ۔

ظاہری حالات سے کبھی مایوس نہ ہوں۔ عین ممکن ہے کہ تاریخ اگلا ورق الٹے تو ایسا انجام سامنے آئے جو ظاہری حالات سے بالکل مختلف ہو ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1986 All issues

Printed page