Al-Risala · July 1986 · page 17

حوصلہ مندی

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۶، صفحہ ۱۷

حوصلہ مندی

نوبل انعام یافتہ پروفیسر عبدالسلام نے جنوری ۱۹۸۶ میں ہندوستان کے مختلف شہروں کا دورہ کیا۔ اس سلسلہ میں ان کی تقریروں کی رپورٹیں اخبارات میں آتی رہیں۔ ان کی ایک تقریر کی رپورٹ میں حسب ذیل الفاظ شامل تھے :

جنوبی کوریا کی مثال دیتے ہوئے پروفیسر عبدالسلام نے کہا کہ تقریباً پندرہ سال پہلے اس کی اور ہندوستان کی قومی پیداوار فی شخص برابر تھی۔ مگر اب جنوبی کوریا کی کوششوں کے نتیجہ میں اس کی فی شخص قومی پیداوار ہندوستان سے کئی گنا زیادہ ہو چکی ہے۔ پروفیسر عبدالسلام نے کہا کہ جنوبی کوریا کی ایک ٹیم ٹریسٹ (اٹلی) آئی جہاں وہ رہتے ہیں اور ان سے یہ جاننا چاہا کہ نوبل انعام کس طرح حاصل کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہی وہ روح ہے جو تیسری دنیا کے لوگوں میں پیدا کی جانی چاہیے ۔

تلاش کا یہ جذبہ ہی تمام ترقیوں کی بنیاد ہے، خواہ وہ فرد کی ترقی کا معاملہ ہو یا قوم کی ترقی کا معاملہ ۔ اور خواہ اس کا تعلق دنیا کی ترقیوں سے ہو یا آخرت کی ترقیوں سے۔ ہر ترقی انھیں لوگوں کے لیے ہے جو اپنے اندر تلاش و جستجو کا کبھی نہ ختم ہونے والا جذبہ رکھتے ہوں ۔ تلاش کا جذبہ یہ بتاتا ہے کہ آدمی کے اندر جمود نہیں پیدا ہو ا ہے۔ اور جمود تمام ترقیوں کا قاتل ہے۔ جہاں جمود آیا وہاں ترقی کا عمل بھی لازمی طور پر رک جائے گا۔ جمود کی حالت طاری ہونے کے بعد آدمی ’’مزید‘‘ کے شوق سے محروم ہو جاتا ہے۔ اور جس سے مزید کا شوق رخصت ہو جائے وہ جہاں ہے وہاں بھی باقی نہیں رہے گا۔ بلکہ پیچھے پیچھے جانا شروع ہو جائے گا، یہاں تک کہ بالکل آخری صف میں پہنچ جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1986 All issues

Printed page