Al-Risala · July 1986 · page 20

اسلام سائنس کا خالق

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۶، صفحہ ۲۰

گمان کر لیا گیا تھا کہ وہ تمام دھاتوں کو سونے میں تبدیل کر سکتا ہے ۔ اس زمانہ کے فلکیات داں محض نجومی ہوتے تھے ۔ اور کیمسٹری کے علماء صرف کیمیا گری کرتے تھے ۔ اس لیے یہ تعجب خیز بات ہے کہ ان سب کے باوجود مسلم عہد کے اطبار نے طب کی ترقی میں قیمتی اضافے کیے۔

اسلام سائنس کا خالق

یہ باتیں وہ ہیں جن کا عام طور پر مورخین نے اعتراف کیا ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ معاملہ اس سے بھی آگے ہے۔ جدید سائنس خود اسلام کی پیدا کردہ ہے ۔ اسلام بلاشبہ سائنس کے لیے نہیں آیا ۔ مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ سائنسی انقلاب خود اسلامی انقلاب کی ضمنی پیداوار ہے ۔ اسلام اور سائنس کے اس تعلق کو بریفالٹ نے ان الفاظ میں تسلیم کیا ہے کہ ہماری سائنس پر عربوں کا قرضہ صرف یہ نہیں ہے کہ انھوں نے حیران کن نظریات دیے۔ سائنس اس سے زیادہ عربوں کی مقروض ہے۔ یہ خود اپنے وجود کے لیے ان کی احسان مند ہے :

یہ ایک علمی اور تاریخی حقیقت ہے کہ اسلام سائنس کا خالق ہے ۔ سائنس سادہ طور پر مطالعہ فطرت (Study of nature) کا نام ہے ۔ انسان جب سے زمین پر آباد ہے اسی وقت سے فطرت اس کے سامنے موجود ہے ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ فطرت کے مطالعہ اور تسخیر میں انسان کو اتنی زیادہ دیر لگی ۔ سائنس کی تمام ترقیاں پچھلے ہزار برس کے اندر ظہور میں آئی ہیں۔ جب کہ اصولاً انھیں لاکھوں سال پہلے ظاہر ہو جانا چاہیے تھا ۔ اس کی وجہ قدیم زمانہ میں شرک کا غلبہ ہے ۔ شرک اس میں مانع تھا کہ آدمی فطرت کا مطالعہ

‹ Previous page Next page › Contents of July 1986 All issues

Printed page