اسلام سائنس کا خالق
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۶، صفحہ ۲۳
کا موضوع بن گئے ۔ مظاہرِ فطرت کی تحقیق و تسخیر کا آغاز مدینہ میں ہوا، پھر دمشق اور بغداد اس کے مرکز بنے۔ اس کے بعد یہ لہر سمندر پار کر کے اسپین اور سسلی میں داخل ہوئی، وہاں سے وہ مزید آگے بڑھ کر اٹلی اور فرانس تک جا پہنچی۔ یہ تاریخی عمل جاری رہا۔ یہاں تک وہ جدید سائنسی انقلاب تک پہونچ گیا۔ مغرب کا سائنسی انقلاب اس اعتبار سے اسلامی انقلاب کا انتہائی نقطہ ہے ۔ وہ توحید کے انقلاب کا سکولر نتیجہ ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ جو اسلام سائنس کا بانی تھا۔ اور جس کے ماننے والے اپنے ابتدائی دور میں ساری دنیا کے لیے سائنس کے معلم بنے اسی اسلام کے ماننے والے موجودہ زمانہ میں سائنس کی تعلیم میں دوسروں سے پیچھے کیوں ہو گئے۔
اس کی سب سے بڑی وجہ سیاسی ہے۔ مسلمانوں نے ابتداً جو سائنسی انقلاب برپا کیا تھا وہ اسپین تک پہونچنے کے بعد مغربی قوموں کی طرف منتقل ہو گیا۔ اس کے بعد سائنس کی ترقیاں زیادہ تر اہل مغرب کے ہاتھوں ہوئیں۔ اس زمانہ میں بھی اگر چہ دنیا کا بڑا حصہ سیاسی طور پر مسلمانوں کے قبضہ میں تھا مگر سائنس کی ترقی کا کام صلیبی جنگوں کے بعد مغربی یورپ کے ذریعہ انجام پا تا رہا۔ مسلمانوں نے اپنے ابتدائی دور میں سائنس کے میدان میں جو ترقیاں کی تھیں اس کا پہلا سب سے بڑا فائدہ ان کو دو سو سالہ صلیبی جنگوں (۱۰۹۵۔ ۱۲۱۶ء) میں ہوا ۔ اس جنگ میں تقریباً سارا یورپ متحدہ طاقت سے مسلم دنیا پر حملہ آور ہوا تاکہ اپنے مقدس مقامات کو مسلمانوں کے قبضہ سے واپس لے ۔ مگر انہیں کامیابی حاصل نہ ہو سکی ۔ ان مہموں میں کروڑوں جانیں اور بے پناہ دولت قربان کر دی گئی ۔ اور جب یہ سب ختم ہوا تو یروشلم بدستور " بد دینوں" کے قبضہ میں تھا : Millions of lives and an enormous amount of treasure were sacrificed in these enterprises. And when all was done, Jerusalem remained in the possession of the "infidels". Pears Cyclopaedia, (1953-1954). p. 539 صلیبی جنگوں کا خاتمہ مسلمانوں کی کامل فتح اور مسیحی یورپ کی کامل شکست پر ہوا ۔ مسلمانوں کی فتح ان کے لیے الٹی پڑی۔ اس کے برعکس عیسائیوں کو ان کی شکست کا زبردست فائدہ حاصل ہوا۔ مسلمان اپنی سیاسی فتح پر قانع ہو کر رہ گئے۔ کامیابی کے احساس نے ان کی عملی قوتوں کو ٹھنڈا کر دیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1986 All issues