Al-Risala · July 1986 · page 24

اسلام سائنس کا خالق

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۶، صفحہ ۲۴

اس کے برعکس مسیحی یورپ کا اپنی ناکامی کا یہ فائدہ ملا کہ اس کے اندر یہ ذہن پیدا ہوا کہ اپنی کمزوریوں کو معلوم کر کے ان کی تلافی کرے ۔ چنانچہ اس کے اندر ایسے لوگ پیدا ہوئے جنھوں نے زور و شور کے ساتھ یہ تبلیغ کی کہ مسلمانوں کی زبان عربی سیکھو اور ان کی کتابوں کو اپنی زبان میں ترجمہ کرو ۔ یہ رجحان یورپ میں تیزی سے پھیلا۔ مسلمانوں کی اکثر کتابیں عربی سے لاطینی زبان میں ترجمہ کی گئیں جو اس وقت یورپ کی علمی زبان تھی۔ یہ عمل کئی سو سال تک جاری رہا۔ ایک طرف مسلمان اپنی سیاسی کامیابی میں گم تھے ، دوسری طرف یورپ علمی میدان میں مسلسل ترقی کر رہا تھا ۔ یورپ کا یہ علمی سفر جاری رہا۔ یہاں تک کہ 18 ویں صدی آ گئی جب کہ یورپ واضح طور پر مسلم دنیا سے آگے بڑھ گیا۔

مغربی یورپ نے سائنس کو جدید ٹکنالوجی تک پہلاچادیا۔ اس نے دستکاری کی جگہ مشینی صنعت ایجاد کی۔ اس نے دستی ہتھیاروں کی جگہ دور مار ہتھیار بنا لیے۔ وہ بڑی طاقت سے آگے بڑھا اور اقتدار بحری طاقت اور اس کے بعد فضائی طاقت پر قابو حاصل کر لیا ۔ اس طرح مغرب بالآخر ایسی طاقت بن گیا جس کا مقابلہ مسلمان اپنے موجودہ ساز و سامان کے ساتھ نہیں کر سکتے تھے ۔ چنانچہ مغرب جدید قوتوں سے مسلح ہو کر جب دوبارہ جب مسلم دنیا کی طرف بڑھا تو مسلمان قومیں ان کو روکنے میں ناکام رہیں۔ مغربی قوموں نے مختصر عرصہ میں تقریباً پوری مسلم دنیا پر براہ راست یا بالواسطہ کنٹرول حاصل کر لیا ۔

صلیبی جنگوں کے بعد مسلمان اپنی سیاسی فتح کے جوش میں سائنس سے دور ہو گئے تھے ۔ موجودہ زمانہ میں یہی بات ایک اور شکل میں پیش آئی ۔ مغربی قوموں کے مقابلہ میں سیاسی شکست نے موجودہ مسلمانوں کے اندر منفی رد عمل پیدا کیا۔ مغربی قوموں نے ان سے ان کا فخر (Pride) چھینا تھا۔ چنانچہ وہ مغربی قوموں سے سخت متنفر ہو کر رہ گئے ۔ اپنی رد عمل کی نفسیات کی وجہ سے انھوں نے نہ صرف مغربی قوموں کو برا سمجھا بلکہ مغربی قوموں کی زبان اور مغربی قوموں کے ذریعہ آنے والے علوم کو بھی وہ نفرت کی نظر سے دیکھنے لگے ۔

ایک صدی کی پوری مدت اسی حال میں گزر گئی۔ مسلمان مغربی قوموں سے نفرت کرتے رہے یا ان سے لڑائیاں لڑتے رہے جو مسلمانوں کی کمتر تیاری کی وجہ سے صرف شکست پر ختم ہونے

‹ Previous page Next page › Contents of July 1986 All issues

Printed page