سائنسی شعور
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۶، صفحہ ۲۵
والی تھی ۔ دوسری طرف دنیا کی دوسری قومیں مغربی زبان اور مغربی علوم کو سیکھ کر تیزی سے آگے بڑھتی رہیں یہاں تک کہ دونوں کے درمیان بعید فاصلہ پیدا ہوگیا جس کی ایک مثال ہم کو ہندوستان میں نظر آتی ہے۔ مسٹر کلدیپ نیّر نے لکھا ہے کہ ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمان تعلیم میں دوسوسال پیچھے ہیں۔ اگر اس کو گھٹایا جائے تب بھی یہ فاصلہ ایک سو سال کے بقدر ماننا ہوگا۔ مغربی قومیں جن علوم کو لے کر آگے بڑھیں وہ سادہ معنوں میں محض علوم نہ تھے بلکہ وہ دور جدید میں ہر قسم کی ترقی کی بنیاد تھے۔ چنانچہ جن قوموں نے ان علوم کو سیکھا وہ دنیوی اعتبار سے دوسروں سے آگے بڑھ گئیں۔ مغربی قومیں اور ان کے مقلدین تہذیب و تمدن میں مسلمانوں سے بدرجہا زیادہ فائق ہوگئے۔ یہی وہ وقت ہے جب کہ مسلمانوں میں سرسید (۱۸۹۸ - ۱۸۱۷) اور اس قسم کے دوسرے مصلحین پیدا ہوئے۔ مگر یہاں پہنچ کر مسلم مصلحین سے تیسری غلطی ہوئی ۔ وہ مغربی تہذیب کی ظاہری چمک دمک سے مرعوب ہوگئے۔ وہ مغربی تہذیب کی جڑوں کو زیادہ گہرائی کے ساتھ نہ دیکھ سکے ۔ وہ مغرب کی طرف بڑھے ۔ مگر ان کا بڑھنا مغرب کی تہذیب سے مرعوبیت کی بنا پر تھا نہ کہ مغرب کی قوت کے اصل سرچشمہ (سائنس) کو سمجھ کر اس کو اختیار کرنے کے لیے تھا۔ چنانچہ اس قسم کے مصلحین کی ساری توجہ مغرب کی زبان ، مغرب کے لٹریچر ، مغرب کے تمدنی مظاہر پر رہی۔ یہ مغرب سے قریب ہونے والے بھی مغرب کی سائنس سے اسی طرح محروم رہے جس طرح مغرب سے دور رہنے والے اس کی سائنس سے محروم تھے۔ سرسید نے انگلستان کا سفر کیا تو وہاں کی خاص چیز جو وہ اپنے ساتھ لائے وہ ایک صوفہ سیٹ تھا۔ اس کے بجائے اگر وہ سائنس کی کتابیں یا کوئی مشین اپنے ساتھ لاتے تو یقیناً وہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے زیادہ بہتر تحفہ ہوتا ۔ آخر وقت میں جب مسلمان مغربی تعلیم کی طرف مائل ہوئے اس وقت بھی ان کے ذہن میں ساری اہمیت مغربی تہذیب کی تھی مغربی سائنس سے وہ بدستور دور پڑے رہے۔
سائنسی شعور
سائنس کے میدان میں مسلمانوں کے پچھڑنے پن کی وجہ اگر مختصر طور پر بتانی ہو تو وہ صرف ایک ہوگی : مسلمانوں میں سائنسی شعور نہ ہونا ۔
ہندوستان کا زمین دار طبقہ جدید تجارت میں پیچھے کیوں ہوگیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے اندر
‹ Previous page Next page › Contents of July 1986 All issues