Al-Risala · July 1986 · page 27

بنیادی غفلت

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۶، صفحہ ۲۷

یہی وجہ ہے کہ آج ہم یہ منظر دیکھتے ہیں کہ مسلم کالج اور اسلامی یونیورسٹی تو ہمارے پاس موجود ہیں مگر اس کے اندر مسلم طلبہ موجود ننہیں کیوں کہ ان بڑے اداروں کو غذا بہم پہنچانے والے چھوٹے ادارے ہیں۔ مسلمانوں نے اپنے بچوں کو مذہبی جذبے کے تحت ہندو اور عیسائی یا گورنمنٹ کے ابتدائی اسکولوں میں بھیجنا پسند نہیں کیا اور خود ان کے اپنے ابتدائی اسکول موجود نہ تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قوم کے بچوں کی ابتدائی تعلیم اس انداز پر نہ ہوسکی کہ وہ آگے بڑھ کر سائنس کے شعبوں میں داخلہ لے سکیں۔ مسلم رہنماؤں کی اس غفلت کی وجہ جو بھی ہو ، مگر یہ ایک واقعہ ہے کہ عملی طور پر یہ ایک بڑا سبب ہے جس نے مسلم قوم کو سائنسی تعلیم میں پیچھے کر دیا۔

بنیادی غفلت

سائنس کی تعلیم میں مسلمانوں کے پیچھے ہونے کا سبب ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ مسلمان انگریز اور انگریزی میں فرق نہ کر سکے ۔ انھوں نے استعماری قوموں کو اور استعماری قوموں کے ذریعہ آنے والے علوم کو ایک سمجھا۔ اول الذکر سے سیاسی اسباب کے تحت انھیں نفرت پیدا ہوئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ثانی الذکر سے بھی نفرت کرنے لگے۔ اگر وہ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کر سکتے تو یقینی طور پر موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی سائنسی تاریخ دوسری ہوتی۔

ہر قوم کے کچھ اپنے قومی علوم ہوتے ہیں۔ ان قومی علوم سے دوسری قوموں کو دلچسپی نہ ہونا ایک فطری بات ہے۔ مزید یہ کہ دوسری قومیں اگر ان قومی علوم سے دلچسپی نہ لیں تو اس سے انھیں کوئی حقیقی نقصان نہیں ہوتا۔

مگر بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک قوم ایک علم کو لے کر اٹھتی ہے لیکن حقیقۃً وہ اس کا قومی علم نہیں ہوتا بلکہ اس کی حیثیت ایک آفاقی علم کی ہوتی ہے۔ یہ علم اپنی حقیقت کے اعتبار سے تمام قوموں کے لیے ہوتا ہے نہ کہ کسی ایک قوم کے لیے۔ وہ انسانیت کا مشترک سرمایہ ہوتا ہے نہ کہ کسی قوم کا انفرادی ورثہ۔

قدیم صلیبی جنگوں کے بعد یہی صورت حال مغربی قوموں کے ساتھ پیش آئی تھی۔ اُس وقت مسلمان سائنسی علوم کے حامل تھے اور اسی بنا پر وہ مغربی قوموں کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے اس وقت مغرب کی حیثیت مفتوح کی تھی اور مسلمانوں کی حیثیت فاتح کی۔ اگرچہ عام طور پر ایسا ہوتا

‹ Previous page Next page › Contents of July 1986 All issues

Printed page