حصہ دوم
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۶، صفحہ ۲۹
حصہ دوم
جدید انسان ایک عجیب مشکل (Dilemma) سے دوچار ہے۔ اس کے پاس ٹکنالوجی ہے مگر اس کے پاس فلسفہ حیات نہیں۔ اس کے پاس جسمانی سفر کے لیے مشین ہے مگر اس کے پاس روحانی سفر کے لیے عقیدہ نہیں۔ یہی جدید انسان کا اصل مسئلہ ہے۔ برٹرینڈرسل (۱۹۷۰-۱۸۷۲) نے اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہم بجلی کے بارے میں کیا جاننانہ چاہتے ہیں۔ صرف یہ کہ اس کو ہم کس طرح اپنے لیے کار آمد بنائیں۔ اس سے زیادہ جاننے کی خواہش بے فائدہ مابعد الطبیعیات میں چھلانگ لگانے کے ہم معنی ہے :
What do we want to know about electricity? Only how to make it work for us. To want to know more is to plunge into useless metaphysics. The Impact of Science on Society, p. 93 برٹرینڈ رسل اور اس کے جیسے دوسرے بے شمار لوگوں کی اصل مشکل یہ ہے کہ وہ صرف بجلی کیا ہے کے سوال کو لینا چاہتے ہیں اور" بجلی کیوں ہے "کے سوال کو نظر انداز کر دینا چاہتے ہیں۔ مگر انسانی فطرت اس تفریق پر راضی نہیں۔ انسان اپنی فطرت کے تحت مجبور ہے کہ وہ بجلی کو عملاً استعمال کرنے کے ساتھ اس کی حقیقت کو بھی جاننا چاہیے ۔ یہ ایک ایسا لازمی سوال ہے جس سے اپنے آپ کو خالی کرنا کسی انسان کے لیے ممکن نہیں۔
نظریاتی سوالات کا جواب معلوم کیے بغیر بھی بجلی ہمارے کارخانوں کو چلاتی ہے اور ہمارے شہروں کو روشن کر رہی ہے۔ مگر انسانی فطرت اس سے انکار کر لیتی ہے کہ وہ یہیں ٹھہر جائے ۔ وہ بجلی کو استعمال کرے مگر بجلی کی حقیقت کو جاننا چاہے۔ آدمی عین اپنی فطرت کے تحت مجبور ہے کہ وہ بجلی کیا ہے " کے سوال کے ساتھ " بجلی کیوں ہے " کے سوال پر بھی غور کرے ۔
اسی دوسری چیز کا نام عقیدہ ہے اور انسان عقیدہ (Faith) کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ جدید انسان کی اصل کمزوری یہی ہے کہ اس نے عقیدہ کو کھو دیا ہے۔ اب اگر اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ آج صحیح اور سچا عقیدہ صرف اسلام ہے تو یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ آج کے انسان کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ اسلام ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1986 All issues