Al-Risala · July 1986 · page 31

مذہب توحید

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۶، صفحہ ۳۱

کم تر درجہ کی مخلوق فرض کیا ۔ اس لیے اس نے قیاس کیا کہ عورت جب کم تر درجہ کی مخلوق ہے تو اس کے منہ میں دانت بھی نسبتاً کم ہونے چاہئیں ۔ اس کے بر عکس برٹرینڈ رسل کا ذہن دور جدید میں بنا ہے جو ہر چیز کا واقعاتی تجزیہ چاہتا ہے۔ اس لیے اس نے کہا کہ قیاس کی بنیاد پر مت مانو بلکہ عورت اور مرد دونوں کا منہ کھول کر ان کے دانت کو گنو اور پھر دیکھو کہ دونوں کے دانت برابر ہیں یا ایک دوسرے سے کم ہیں۔

قدیم زمانہ قیاسی معیار پر باتوں کو ماننے کا زمانہ تھا۔ اس لیے قدیم زمانہ میں یہ ممکن تھا کہ جو مذہب بھی رائج ہو اس کو قیاسی مفروضات کی بنا پر درست مان لیا جائے۔ مگر موجودہ زمانہ میں آدمی کسی بات کو صرف اس وقت مانتا ہے جب کہ اس سے متعلق تمام حقائق کا تجزیہ کر کے وہ اس کی معقولیت کو بالواسطہ یا براہ راست طور پر جان چکا ہو۔

یہ وہ معیار ہے جس کو منطبق کرنے کے بعد دوسرے تمام مذاہب اپنے آپ رد ہو جاتے ہیں اس کے بعد صرف اسلام باقی رہتا ہے جو سائنسی معیار پر پورا اترے۔

مذہب توحید

سائنس نے جو کائنات دریافت کی ہے اس میں مکمل وحدت ہے۔ پوری کائنات یکساں قسم کے قانون کے تحت نظر آتی ہے۔

ایک برطانی سائنس داں پروفیسر آئن راکس برگ (Ian Roxburg) کائنات کیوں اس قدر یکساں ہے (?Why is the universe so uniform) کے زیر عنوان لکھتا ہے کہ کائنات تعجب خیز حد تک یکساں ہے۔ ہم خواہ کسی طور پر بھی اس کو دیکھیں، کائنات کے اجزاء میں وہی ترکیب اسی تناسب سے پائی جاتی ہے۔ زمین پر جو طبیعیاتی قوانین دریافت کیے گیے ہیں وہ تحکمی اعداد پر مشتمل ہیں، جیسے کسی الیکٹران کی مقدار مادہ کا تناسب ایک پروٹان کے مقدار مادہ سے جو کہ تقریباً ۱۸۳۰ کے مقابلہ میں ایک ہوتا ہے۔ یہی تناسب ہر جگہ اور ہر وقت پایا جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ کیا ایک خالق نے تحکمی طور پر انھیں اعداد کا انتخاب کر رکھا ہے۔ کیا کائنات کے وجود کے لیے ان اعداد میں وہی متناسب قدر ضروری ہے جو ہم دیکھتے ہیں۔ پروفیسر آئن راکس برگ کے اصل الفاظ یہ ہیں :

‹ Previous page Next page › Contents of July 1986 All issues

Printed page