Al-Risala · July 1986 · page 32

مشرکانہ مذاہب

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۶، صفحہ ۳۲

سائنسی نے جو کائنات دریافت کی ہے وہ کائنات وحدت ہے ۔ ایسی کائنات میں صرف توحید کا تصور فٹ بیٹھتا ہے ۔ شرک کا تصور سائنسی کائنات کے ساتھ کسی طرح ہم آہنگ نہیں ۔ اب مختلف مذاہب کو دیکھیے تو تمام مذاہب مشرکانہ عقائد مبنی نظر آتے ہیں۔ پارسی کائنات میں دو خدا مانتے ہیں۔ عیسائیوں کے نزدیک خدا کی تعداد تین ہے ، ہندو ازم میں خداؤں کی تعداد کم سے ۳۳ اور زیادہ سے زیادہ ۳۳ کروڑ بتائی گئی ہے۔ افریقہ کے قبائلی مذاہب میں ہر چیز خدا ہے ، صرف ایک انسان ہے جو اس خدائی میں شامل نہیں وغیرہ۔ اس کے مقابلہ میں اسلام نہایت واضح اور قطعی طور پر اس بات کا مبلغ ہے کہ خدا صرف ایک ہے۔ یہاں ایک اللہ کے سوا اور کوئی الہ نہیں۔ اسلام اور دوسرے مذاہب کے اس فرق کو ملحوظ رکھا جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ جدید سائنسی دنیا میں جو مذہب قابل قبول ہو سکتا ہے وہ صرف اسلام ہے جو خالص توحید کا مذہب ہے ۔ دوسرے تمام مذاہب جدید سائنسی دنیا میں غیر مطابق ہو کر رہ گئے ہیں کیوں کہ وہ شرک کی تعلیم دیتے ہیں اور شرک کا اصول جدید سائنس کی دریافت کردہ کائنات کے ساتھ ہم آہنگ نہیں۔

مشرکانہ مذاہب

اسلام کے سوا دوسرے مذاہب مشرکانہ مذاہب ہیں۔ مشرکانہ مذاہب میں فطرت کے مظاہر کو خدا کا درجہ دیا گیا ہے۔ اور ان کو مقدس سمجھ کر ان کی پرستش کی جاتی ہے۔ شرک دراصل مظاہر فطرت کی پرستش ہی کا دوسرا نام ہے ۔

موجودہ زمانہ میں فطرت کے ان مظاہر کی نہایت تفصیلی تحقیق کی گئی ہے۔ اور ان کے بارے میں قطعی معلومات حاصل کی گئی ہیں ۔ یہ معلومات ان مظاہر پر فطرت کی خدائی کو بے بنیاد ثابت کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر ہندو ازم میں چاند کو دیوتا بتایا جاتا ہے۔ ہندو عقیدہ رکھنے والے لوگ

‹ Previous page Next page › Contents of July 1986 All issues

Printed page