Al-Risala · July 1986 · page 38

جدید تقاضا

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۶، صفحہ ۳۸

اسلام اتنا برحق مذہب ہے کہ دوسرے مذہبوں سے اس کا سادہ تقابل ہی اس کی برتری ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ بائبل ایک قوم کی قومی تاریخ معلوم ہوتی ہے جب کہ قرن میں عالمی انسانی پیغام ملتا ہے۔ یہودیت کے نزدیک سارا تقدس بن فلسطین کی سرزمین میں ہے جب کہ اسلام کہتا ہے کہ ساری زمین خدا کی زمین ہے۔ یہودیت کے مطابق ان کے مذہب اور فلسطین کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا جب کہ خود حضرت موسیٰ کو خدا نے فلسطین سے باہر خطاب کیا اور یہودیوں کی مقدس مذہبی کتاب فلسطین کے باہر مرتب کی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام اتنا کامل اور اتنا برحق دین ہے کہ دوسروں کے سامنے صرف اس کو سادہ صورت میں پیش کر دینا کافی ہے۔ بشرطیکہ ہم اس کو کسی ملاوٹ کے بغیر اس کی اصلی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔

جدید تقاضا

موجودہ زمانہ کے ایک مفکر نے لکھا ہے کہ آج کے انسان کے لیے وہی مذہب قابل قبول ہو سکتا ہے جس کی تعلیمات عالمی ہوں اور جس کا فکر عقلیت پر مبنی ہو :

Universal in content and rational in thought

مذکورہ مفکر کی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے ہم کہیں گے کہ یہ دونوں صفات آج صرف اسلام کے اندر پائی جاتی ہیں۔ اسلام کے سوا دوسرا کوئی مذہب نہیں جو دور جدید کے اس معیار پر پورا اترے۔

اسلام اپنی ابتدائی ربانی شکل میں آج بھی کامل طور پر محفوظ ہے۔ جب کہ دوسرے مذاہب کا حال یہ ہے کہ بعد کے زمانوں میں ان کے اندر انسانی آمیزش ہوتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ انھوں نے اپنی آفا قیت بھی کھودی اور اسی کے ساتھ اپنی عقلیت بھی۔ انسان کی محدودیت نے خدائی مذہب میں شامل ہو کر خدائی مذہب کو بھی محدود کر دیا۔

یہی وجہ ہے کہ آج ہم یہ دیکھتے ہیں کہ دوسرے مذاہب میں انسان اور انسان کے درمیان تفریق پائی جاتی ہے۔ چوں کہ لوگوں کے درمیان تفریق اور امتیاز موجود تھا، انھوں نے اپنی اس عملی حالت کو نظریاتی جواز فراہم کرنے کے لیے اس کو ایک مذہبی چیز بنایا اور پھر اس کو اپنی مذہبی کتابوں میں داخل کر دیا۔ مذاہب میں بادشاہ اور رعایا کی تقسیم ، آ آزاد اور غلام کی تقسیم ، کالے اور گورے کی تقسیم، اونچی ذات اور نیچی ذات کی تقسیم، امیر اور غریب کی تقسیم، مذہبی پیشوا اور عام انسان کی تقسیم — یہ تمام چیزیں اسی تاریخی غلطی کا نتیجہ ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1986 All issues

Printed page