Al-Risala · July 1986 · page 39

Universal in content and rational in thought

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۶، صفحہ ۳۹

یہی معاملہ عقلیت کا بھی ہے ۔ انسان کی عقل محدود ہے ۔ وہ حد بندیوں میں رہ کر سوچتی ہے اسلام کے سوا ہر مذہب میں ایسا ہوا وہ بعد کے زمانہ میں اس کے ماننے والوں نے اپنی عقل سے اس میں اضافے کیے ۔ ان اضافوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدائی کلام کے ساتھ انسانی کلام شامل ہوگیا ۔ اس طرح اس کی ابدیت ختم ہوگئی ۔ جو چیز ماضی میں عقلی نظر آتی تھی وہ بعد کے زمانہ میں غیر عقلی ہو کر رہ گئی ۔

اب مذاہب کی فہرست میں اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو اپنی ابتدائی حالت میں محفوظ رہنے کی وجہ سے ان دونوں صفتوں کو اپنے اندر برقرار رکھے ہوئے ہے ۔ اس میں آفاقیت بھی مکمل طور پر ہے اور عقلیت بھی مکمل طور پر ۔

اِنْ اَنَا الَّا نَذِیرٌ وَ بَشِیرٌ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُونَ عَظَمَتِ قُرآن اَصْلِ کتاب کا مُصَنِّف، اور اُس کی خِلافِہ ہِلا لِ اِسْمَاعِیل صَفدر (رحمتہ اللہ علیہ) الجھنیہ کلام پورین نہیں مطبوعات اسلامیہ : ملتان اَللّٰہ اَکْبَر مولا نا بلال کا نفر ، شاکر سمت کا ہاس الله مولانا پورین نہیں خدا کو پانا سب سے بڑی حقیقت کو پانا ہے ۔ کوئی آدمی جب خدا کو پاتا ہے تو یہ اس کے لیے ایک ایسی دریافت ہوتی ہے جو اس کی پوری زندگی کو بلا دیتی ہے ۔ وہ ایک نا قابل بیان ربانی نور میں نہا اٹھتا ہے کہ ایک نیا انسان بن جاتا ہے ۔ اس کی سوچ ، اس کا عمل اور اس کی تمام کردار دانیار ایک ایسے انسان کی کار روائیاں بن جاتی ہیں جو خدا کے ظہور سے پہلے خدا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے ۔

قرآن اپنی ذات میں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خدا کی کتاب ہے ۔ وہ اُسی ابتدائی صورت میں کامل طور پر محفوظ ہے جیسا کہ ساتویں صدی عیسوی میں پیغمبر عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا تھا ۔ ان خصوصیات نے قرآن کے پیغام کو اتنا طاقتور بنا دیا ہے کہ جب بھی وہ دنیا کے سامنے اپنی اصلی شکل میں لایا جائے گا وہ اقوام عالم کو مسخر کرلے گا ۔ ہدیہ : ۴۰ روپیہ ۲۰ روپیہ (دعایتی اڈیشن)

ہدیہ : ۲۵ روپیہ ۱۸ روپیہ (دعایتی اڈیشن)

‹ Previous page Next page › Contents of July 1986 All issues

Printed page