Al-Risala · July 1986 · page 43

الرسالة ہندی

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۶، صفحہ ۴۳

جیسا کہ پچھلی بحث سے واضح ہے ۔ چیف جسٹس صاحب کا یہ ریکارڈ خالص علمی اعتبار سے سراسر بے بنیاد ہے۔ مگر اس سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ موصوف کو جب بذریعہ خط توجہ دلائی گئی تو انھوں نے اس کا جواب دینے کے بجائے خاموشی اختیار کر لی ۔ پہلی بار یہ خط انھیں ۱ ا پریل ۱۹۸۶ کو بذریعہ رجسٹری روانہ کیا گیا تھا ۔ جب کوئی جواب موصول نہ ہوا تو دوبارہ یہی خط ۲۱ مئی ۱۹۸۶ کو انھیں بھیجا گیا ۔ پھر بھی انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بار بار ٹیلی فون کرنے کے بعد بھی کوئی کامیابی نہ ہوسکی ۔ ٹیلی فون پر ان سے کہا گیا کہ آپ ملاقات کا وقت دیدیں تاکہ ہم خود گفتگو کے لیے آپ کے یہاں حاضر ہو سکیں ۔ مگر انھوں نے ملاقات کا وقت دینے سے معذوری ظاہر کی ۔ مجبوراً اب یہ خط اس طرح شائع کیا جا رہا ہے کہ اس کے ساتھ جسٹس موصوف کا جواب شامل نہیں ۔

دوسروں پر حکم لگانے کے لیے ہر آدمی با انصاف ہے۔ مگر جب خود اپنے آپ پر حکم لگا ہو تو ہر آدمی بے انصاف بن جاتا ہے ۔

الرسالة ہندی

لوگوں کی طرف سے مسلسل تقاضا ہوتا رہا ہے کہ الرسالة کا ہندی ایڈیشن نکالا جائے ۔ اللہ کے بھروسہ پر اس کے انتظامات کیے جا رہے ہیں ۔ قارئین الرسالہ اور اصحاب ایجنسی اپنی اپنی طلب سے مطلع فرمائیں ۔ الرسالہ ہندی انشاء اللہ ۳۲ صفحات پر مشتمل ہوگا ۔

منیجر الرسالہ

‹ Previous page Next page › Contents of July 1986 All issues

Printed page