Al-Risala · July 1986 · page 42

Universal in content and rational in thought

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۶، صفحہ ۴۲

مل کر مشترکہ جد و جہد سے تمدن کی تعمیر کریں ۔

حدیث (ضلع) میں عورتوں کے بارے میں جو بات ارشاد ہوئی ہے اس کا مقصد تمثیل کی زبان میں یہ بتانا ہے کہ عورتوں کی مخصوص فطری ساخت کی بنا پر ضروری ہے کہ ان کے ساتھ نرمی کا سلوک کیا جائے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار مختلف انداز سے یہ نصیحت فرمائی ہے اور خود اپنی پوری زندگی میں اس کا مکمل اہتمام کیا ہے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عورتیں رات کی نمازوں میں شریک ہوتی تھیں ۔ بعض اوقات ان کے ساتھ ان کے چھوٹے بچے بھی ہوتے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ نماز کی اقامت کا بہت خاص اہتمام فرماتے تھے ، لیکن خواتین کے ساتھ آپ کی رعایت کا یہ حال تھا کہ نماز میں اگر کبھی چھوٹے بچے کے رونے کی آواز آ جاتی تو آپ نماز کو جلد ختم کر دیتے ۔ حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا : انی لاقوم فی الصلوة اريد ان اطول فيها میں مسجد میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں ، یہ چاہتا فاسمع بكاء الصبي فاتجوز فى صلاتي ہوں کہ اس کو لمبا کروں ، پھر میں بچے کے رونے کی كراهية ان اشق على أمه آواز سنتا ہوں تو میں اپنی نماز کو مختصر کر دیتا ہوں ، اس بخاری ، کتاب الصلوة ) اندیشہ کی بنا پر کہ میں اس کی ماں کو تکلیف دوں گا ۔ حدیث رسول میں عورت کو پسلی ( ضلع ) سے تشبیہ دینا ایک سادہ سی بات ہے ۔ اس معاملہ میں جو شبہات پیدا ہوئے اس کی وجہ یہ تھی کہ حدیث کو بائبل کے بیان سے جوڑ دیا گیا ۔ حالاں کہ مذکورہ حدیث کا بائبل کے بیان سے کوئی تعلق نہیں ۔ حدیث میں جو بات کہی گئی ہے وہ ایک فطری حقیقت ہے جس کو دوسرے لوگوں نے بھی اپنے اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے ۔ مثلاً میتھو آرنلڈ (Mathew Arnold) نے اسی بات کو ان لفظوں میں کہا کہ عورتوں پر دل کی دلیل کام کرتی ہے نہ کہ دماغ کی ، With women the heart argues, not the mind. خط و کتابت اوپر ہم نے وہ ریمارک نقل کیا ہے جو ہندوستانی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس مسٹر چندرا چوڑ نے اس معاملہ میں محمد احمد شاہ بانو کیس پر فیصلہ صادر کرتے ہوئے دیا تھا ۔ اس سلسلہ میں ہم نے سابق چیف جسٹس صاحب کو ایک خط روانہ کیا تھا ۔ اس خط کا عکس اگلے صفحہ پر نقل کیا جا رہا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1986 All issues

Printed page