Al-Risala · August 1986 · page 2

مومن و منافق

الرسالہ، اگست ۱۹۸۶، صفحہ ۲

مومن و منافق

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک طرح کے ہیں۔ وہ بُری بات کی تعلیم دیتے ہیں اور بھلی بات سے روکتے ہیں ( (التوبہ67) ) دوسری طرف ارشاد ہوا ہے کہ اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں ، وہ بھلی باتوں کی تعلیم دیتے ہیں اور بُری باتوں سے روکتے ہیں ، التوبہ ۷۱) اس بات کو لفظ بدل کر کہا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ منافق کا منافق کے ساتھ جوڑ بیٹھتا ہے اور مومن کا مومن کے ساتھ جوڑ بیٹھتا ہے ، ان کا مزاج اِن سے ملتا ہے اور اُن کا مزاج اُن سے ملتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ منافق کے دل میں کچھ ہوتا ہے اور زبان پر کچھ ، جب کہ مومن کے دل میں جو کچھ ہوتا ہے وہی اس کی زبان پر ہوتا ہے۔ منافق کی دلچسپی دنیا اور دنیا کے لوگوں سے ہوتی ہے ۔ اور مومن کی دلچسپی خدا اور آخرت سے ۔ منافق اپنے آپ کو کسی اصول کا پابند نہیں سمجھتا ، جب کہ مومن پورے معنوں میں ایک با اصول انسان ہوتا ہے ۔ منافق اپنے کو نمایاں کر کے خوش ہوتا ہے اور مومن کی خوشی اس میں ہوتی ہے کہ وہ تواضع کا رویہ اختیار کرے ۔ منافق اپنے معمولی فائدے کی خاطر حقیقت کا انکار کر دیتا ہے ، جب کہ مومن اس کو برداشت نہیں کر سکتا کہ وہ حقیقت کا انکار کرے ۔ منافق کی لذت غیر سنجیدہ چیزوں میں ہوتی ہے اور مومن کی لذت صرف سنجیدہ چیزوں میں ۔ منافق ہمیشہ مصنوعی باتیں کرتا ہے اور مومن ہمیشہ سچی باتیں ۔

سوچ اور مزاج کا یہ فرق مومن اور منافق کے درمیان زبردست فرق پیدا کر دیتا ہے۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھی نہیں بن پاتے ، ان کا ایک دوسرے سے نباہ نہیں ہوتا ۔ مومن مومن سے یا منافق منافق سے جڑے تو ہم مزاج ہونے کی وجہ سے دونوں کا جوڑ بیٹھ جائے گا۔ مگر جب جڑنے والوں میں ایک مومن ہو اور دوسرا منافق تو ان کا مزاجی اختلاف انھیں ایک دوسرے سے متوحش کر دے گا ۔ وقتی ملاقات ہو تب بھی انھیں ایک دوسرے سے خوشی حاصل نہ ہوگی ۔ مستقل رشتہ قائم ہو تب بھی دونوں کے درمیان اس کا نبھنا سخت دشوار ہو جائے گا ۔

مومن اور منافق بظاہر ایک طرح کے ہوتے ہیں مگر مزاج کا فرق دونوں میں اتنا فرق پیدا کر دیتا ہے کہ ایک اگر مشرق کا مسافر بن جاتا ہے تو دوسرا مغرب کا مسافر ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1986 All issues

Printed page