Al-Risala · August 1986 · page 3

فریضہ شہادت

الرسالہ، اگست ۱۹۸۶، صفحہ ۳

فریضہ شہادت

موجودہ دنیا میں امتِ محمدیہ کا اصل منصبی فریضہ شہادت علی الناس ہے۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ انتم شہداء اللہ في الارض (تم لوگ زمین پر اللہ کے گواہ ہو) قرآن کے مختلف مقامات کو ملا کر دیکھنے سے شہادت کا جو مفہوم متعین ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا میں انسان کو آزمائش کے لیے رکھا ہے، اس بات کی آزمائش کے لیے کہ وہ حق کا اعتراف کرتا ہے یا نہیں۔ اور اپنی زندگی کو حق کے مطابق ڈھالتا ہے یا نہیں۔ یہ کوئی سادہ سی بات نہیں، یہ انتہائی سنگین بات ہے۔ کیوں کہ اسی کی بنیاد پر آخرت میں انسان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ اسی امتحان کی بنیاد پر کچھ لوگ ابدی جنتوں میں جگہ پائیں گے اور کچھ لوگ ابدی طور پر جہنم میں ڈال دیے جائیں گے۔

اس عمل کا دوسرا نام دعوت اور تبلیغ ہے۔ اس کو شہادت (گواہی) اس لیے کہا گیا ہے کہ دنیا کے دعاۃ آخرت میں خدا کے شہداء (گواہ) ہوں گے۔ جن خدا کے بندوں نے دنیا میں خدا کے سچے دین سے لوگوں کو باخبر کیا ہوگا وہی آخرت کی عدالت میں قوموں کے اوپر گواہ بن کر کھڑے ہوں گے اور بتائیں گے کہ دعوت حق کا رد عمل کس نے اقرار کی صورت میں پیش کیا اور کس نے انکار کی صورت میں۔

نُصرت اور غلبہ کا وعدہ جو امت مسلمہ سے کیا گیا ہے وہ تمام تر اسی عمل کی ادائیگی پر موقوف ہے۔ مسلمان کارِ شہادت انجام دیں تو وہ دنیا میں سربلند ہوں گے۔ اور اگر وہ کارِ شہادت انجام نہ دیں تو کوئی چیز انہیں ذلت اور ناکامی سے بچا نہیں سکتی۔

کسی آدمی کی زندگی کا جو مقصد ہو اسی کے لحاظ سے اس کا کردار بنتا ہے۔ مسلمان اگر دل سے یہ سمجھیں کہ ان کا اصل کام قوموں کے اوپر خدا کے دین کی گواہی دینا ہے تو ان کا پورا رویہ بدل جائے گا۔ اس کے سوا دوسری تمام باتیں انھیں غیر متعلق نظر آنے لگیں گی۔ دوسری قوموں سے وہ اپنے دنیوی جھگڑے ختم کر دیں گے۔ وہ چاہیں گے کہ یک طرفہ نقصان اٹھا کر دوسری قوموں سے معتدل تعلقات قائم کریں تاکہ انھیں خدا کے دین پر سنجیدہ غور و فکر کے لیے آمادہ کر سکیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1986 All issues

Printed page