Al-Risala · August 1986 · page 9

فرد کی سطح پر

الرسالہ، اگست ۱۹۸۶، صفحہ ۹

فرد کی سطح پر

ایک شخص بائیسکل پر سفر کر رہا تھا۔ اچانک اس کا بریک جام ہو گیا ۔ وہ اتر کر سائیکل ساز کے پاس گیا۔ مسافر کا خیال تھا کہ جس مقام پر اس کا بریک جام ہوا ہے ، سائیکل ساز اسی مقام پر ہاتھ لگا کر اس کو درست کرے گا۔ مگر سائیکل ساز نے ہتھوڑی لی اور بالکل دوسرے مقام پر ٹھونکنا شروع کر دیا۔ مسافر بھی اپنی حیرت کا اظہار بھی نہیں کر پا یا تھا کہ مستری نے کہا " بس ٹھیک ہے ، لے جائیے " اگلے لمحہ سائیکل اپنے مسافر کو لیے ہوئے دوبارہ سڑک پر دوڑ رہی تھی ۔

یہی معاملہ انسانی زندگی کا بھی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ظاہری اسباب کو دیکھ کر سمجھ لیتا ہے کہ خرابی یہاں ہے ۔ وہ اسی مقام پر ٹھونک پیٹ شروع کر دیتا ہے۔ مگر خرابی دور نہیں ہوتی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خرابی کی اصل جڑ کہیں اور ہوتی ہے اور جب تک اصل جڑ کی اصلاح نہ کی جائے خرابی کی اصلاح نہیں ہو سکتی ۔

مثلاً قوم کے اندر اتحاد نہیں ہے ۔ اس کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے ۔ لوگ آپس کے اختلاف میں غیروں سے مل جاتے ہیں۔ ان کی کوئی اجتماعی آواز نہیں ہے ، وغیرہ ۔ ان مظاہر کو دیکھ کر ایک شخص کے اندر کچھ کرنے کا جذبہ اٹھتا ہے اور وہ فوراً اجتماع اور کنونشن کی اصطلاحات میں سوچنے لگتا ہے۔ اس کو کام یہ نظر آتا ہے کہ قوم کے افراد کو جمع کر کے پر جوش تقریریں کی جائیں ۔ ریزولیوشن پاس کیے جائیں۔ وغیرہ ۔

مگر یہ مسئلہ کا حل نہیں ۔ یہ گویا علامتوں پر محنت کرنا ہے ۔ حالاں کہ اصلی حل یہ ہے کہ سبب پر محنت کی جائے ۔ زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مسئلہ بظاہر کہیں اور پیدا ہوتا ہے اور اس کے حل کا راز کہیں اور ہوتا ہے ۔ مثلاً قوم کے اندر اگر اتحاد نہیں ہے تو اس کا سبب افراد کی بے اتحادی ہو گی ۔ ایسی حالت میں آپ " اتحاد کا نفرنس‘‘ " کر کے لوگوں کے اندر اتحاد پیدا نہیں کر سکتے ۔ پہلے فرد کی سطح پر اتحاد پیدا کیجیے ۔ اس کے بعد قوم کی سطح پر اپنے آپ اتحاد پیدا ہو جائے گا۔ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ یہاں " پھل " پر محنت کرنے والے کو پھل نہیں ملتا۔ یہاں پھل صرف وہ شخص پاتا ہے جس نے " بیج " پر محنت کرنے کا ثبوت دیا ہو ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1986 All issues

Printed page