Al-Risala · August 1986 · page 10

الٹا نتیجہ

الرسالہ، اگست ۱۹۸۶، صفحہ ۱۰

الٹا نتیجہ

سبھاش ایک ڈاکو تھا جو ڈاکہ زنی کے ۲۰ واقعات میں ماخود تھا۔ پولیس نے اس کو زندہ یا مردہ پکڑنے پر پندرہ ہزار روپیہ نقد انعام کا اعلان کیا تھا۔

۱۳ دسمبر ۱۹۸۳ کا واقعہ ہے۔ دہلی کی ایک پولیس پارٹی اپنے میٹا ڈور پر انکم ٹیکس آفس کے پاس سڑک پر تھی۔ اس نے دیکھا کہ سامنے سے ایک سفید فیٹ کار آرہی ہے۔ پولیس کی گاڑی کے قریب آکر اچانک اس نے یو ٹرن (U-Turn) لیا۔ یعنی گھوم کر پیچھے کی طرف واپس ہوگئی۔ پولیس والوں کو شبہ ہوا اور انھوں نے کار کا پیچھا کیا ۔ پولیس کی گاڑی جب بالکل قریب پہنچ گئی تو کار کے مسافروں نے پولیس کی گاڑی پر فائرنگ شروع کردی۔

اب پولیس پارٹی کو یقین ہوگیا کہ اس کے اندر کوئی مجرم بیٹھا ہوا ہے۔ چنانچہ پولیس والوں نے بھی جواب میں کار کے اوپر فائر کیے۔ مگر کار آگے کی طرف بھاگتی رہی اور بالآخر نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ تاہم اسی شام کو شاہدرہ اسپتال کے قریب ایک لاش سڑک پر پڑی ہوئی ملی۔ یہ مذکورہ ڈاکو سبھاش کی لاش تھی۔ پولیس کی گولیوں سے زخمی ہوکر وہ جلد ہی مر گیا تو اس کے بقیہ چار ساتھیوں نے اس کو کار سے نکال کر باہر سڑک پر پھینک دیا اور خود آگے کی طرف روانہ ہوگئے (ٹائمز آف انڈیا، ہندوستان ٹائمز ۱۴ دسمبر ۱۹۸۳)

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کبھی بچاؤ کا اقدام الٹا پڑتا ہے۔ سفید کار والے اگر معمول کے مطابق اپنے راستہ سے گزر گیے ہوتے تو ممکن تھا کہ وہ پولیس کی زد سے بچ جاتے۔ مگر جب انھوں نے اپنے بچاؤ کے لیے جارحانہ اقدام کیا تو وہ ہلاکت کے منہ میں جاپڑے ۔

اس دنیا میں ہر آدمی کی سوجھ بوجھ کا امتحان لیا جارہا ہے۔ جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ وہ جس مخالفت چیز کو دیکھیں اس سے لڑنے کے لیے آمادہ ہو جائیں وہ اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اس دنیا میں کامیاب ہونے کے لیے کبھی مقابلہ کرنا ہوتا ہے اور کبھی اعراض کرنا پڑتا ہے۔ کبھی سامنے کی سڑک سے چلنا ہوتا ہے اور کبھی ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی دائیں یا بائیں سے کتر آکر آگے بڑھ جائے۔ یہ دنیا ہوش مندی کا امتحان ہے، یہاں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو اس نازک امتحان میں پورا اترے

‹ Previous page Next page › Contents of August 1986 All issues

Printed page