Al-Risala · August 1986 · page 22

شعائر اللہ

الرسالہ، اگست ۱۹۸۶، صفحہ ۲۲

البتہ ہ کسی نسبت کی بنا پر اصل کی یاد دلائے۔ اس کی ایک مثال صفا اور مروہ پہاڑیاں ہیں جن کو قرآن میں شعائر کہا گیا ہے۔ ( ان الصفا والمروة من شعائر الله ، البقره ۱۵۸ )

صفا اور مروہ مکہ میں بیت اللہ کے قریب دو پہاڑیاں ہیں جن کے درمیان تقریباً 500 قدم کا فاصلہ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے شیر خوار بچے اسماعیل کو لاکر یہاں بسایا تو یہاں نہ کوئی آبادی تھی اور نہ پانی۔ حضرت ہاجرہ کی مشک کا پانی ختم ہو گیا تو وہ صفا اور مروہ کے درمیان پانی کی تلاش میں سات بار دوڑیں ۔ اسی کی یاد میں آج بھی تمام حاجی دونوں پہاڑیوں کے درمیان سات بار سعی کرتے ہیں ۔

یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کو پسند آیا اور اس نے صفا اور مروہ کو اپنا شعیرہ قرار دیدیا۔ یعنی خدا پرستی کی مستند یادگار ۔ صفا اور مروہ کو دیکھ کر وہ پوری تاریخ یاد آ جاتی ہے جب کہ اللہ کے ایک بندہ نے صرف اللہ کی رضا کی خاطر اپنے سر سبز وطن (عراق) کو چھوڑا اور اپنے بیوی اور بچہ کو بے آب و گیاہ علاقہ میں لا کر بسا دیا۔ یہ اللہ پر یقین اور اس کے اوپر اعتماد کی ایک کامل مثال ہے۔ اسی طرح کعبہ ، حجر اسود اور حج سے متعلق دوسری چیزیں سب کی سب شعائر اللہ ہیں۔ یہ موحد کامل حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی خدا پرستانہ زندگی کی نشانیاں ہیں۔ ان کو دیکھ کر حضرت ابراہیم کی موحدانہ تاریخ یاد آتی ہے ۔ ان کو دیکھ کر خدا کی عظمت و جلال کا نقشہ آنکھوں کے سامنے پھر جاتا ہے۔ ان شعائر کے ماحول میں پہونچ کر آدمی اپنے آپ کو خدا کے ماحول میں محسوس کرنے لگتا ہے ۔ حجر اسود کو حدیث میں ید اللہ علی الارض ( زمین پر اللہ کا ہاتھ ) کہا گیا ہے۔ یہ حقیقی معنوں میں نہیں بلکہ تمثیلی معنوں میں ہے۔ آدمی کے اندر اٹھنے والے ربانی جذبات اپنی محسوس تسکین کے لیے یہ چاہتے تھے کہ وہ اللہ کے ہاتھ کو چھوئیں اور اس کو چھو کر اپنے جذبے کو مطمئن کریں، حجر اسود کو چوم کر آدمی اپنے اسی جذبہ کی تسکین حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح آدمی چاہتا تھا کہ وہ اللہ کو پا کر اس کے گرد گھومے ، کعبہ کے مقدس گھر کا طواف کر کے وہ اپنے اسی جذبہ کو تسکین دیتا ہے ۔ آدمی چاہتا تھا کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے دوڑے، وہ صفا اور مروہ کے درمیان دوڑتا ہے تو اس کو یہی تسکین حاصل ہوتی ہے ۔ اسی طرح حج کے تمام مراسم کسی نہ کسی اعتبار سے انسان کے چھپے ہوئے جذبات کی تسکین ہیں۔ وہ اپنے رب سے محسوس تعلق و قائم کرنے کا ذریعہ ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1986 All issues

Printed page