Al-Risala · August 1986 · page 21

شعائر اللہ

الرسالہ، اگست ۱۹۸۶، صفحہ ۲۱

محسوس اور اک حقیقی معنوں میں آخرت سے پہلے ممکن نہیں ۔

آخرت میں بلا شبہ انسان خدا کو دیکھے گا ۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آخرت کے دن کچھ چہرے ترو تازہ ہوں گے ، وہ اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے ( القیامہ ) حدیث سے بھی یہ بات تواتر کی حد تک ثابت ہے صحیح بخاری کی ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ تم عنقریب اپنے رب کو کھلے طور پر دیکھو گے ( انکم سترون ربکم عیانا )

وفی الصحيحين عن جرير قال نظر | بخاری و مسلم میں حضرت جریر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الى القمر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی رات میں چاند کی ليلة البدر فقال : انكم ترون ربكم | طرف دیکھا ، پھر فرمایا کہ تم ( آخرت میں ) اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح تم اس چاند کو دیکھ | رہے ہو ۔

شعائر اللہ

یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا کا حقیقی مشاہدہ صرف آخرت میں ہوگا ۔ مگر آخرت کے خدائی مشاہدہ پر یقین رکھتے ہوئے بھی انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ خدا کو پائے ۔ وہ کل کے آنے سے پہلے آج کے دن خدا کی قربت حاصل کرے ۔ یہ انسان کی فطرت ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ انسان کی یہ طلب موجودہ دنیا میں کس طرح پوری ہو ۔

اس کا جواب شعائر اللہ ( البقره ١٥٨ ) کی صورت میں فراہم کیا گیا ہے ۔ اللہ تعالی نے کچھ چیزوں کو ان کی مخصوص تاریخی اہمیت کی بنا پر اپنا شعیرہ (علامت) قرار دیا ہے ۔ ان علامتوں یا یادگاروں کے گرد ایسے حالات جمع کیے گیے ہیں کہ ان کو دیکھنا خدا کو دیکھنا بن جائے ۔ جس خدا کو انسان براہ راست نہیں پا سکتا اس کو وہ بالواسطہ انداز میں پالے ۔ انسان موجودہ دنیا میں اللہ کو نہیں دیکھ سکتا البتہ وہ شعائر اللہ کو دیکھ سکتا ہے ۔ وہ موجودہ دنیا میں اللہ کو اس طرح نہیں پا سکتا کہ وہ اس کو چھوئے اور اس سے محسوس قربت حاصل کرے ۔ البتہ وہ شعائر اللہ کو چھو سکتا ہے اور اس کے ذریعہ سے قربت خداوندی کا محسوس تجربہ کر سکتا ہے ۔

شعیرہ ( جمع شعائر ) سے معنیٰ ہیں نشان ، علامت ، یادگار ۔ یعنی وہ چیز جو خود اصل نہ ہو

‹ Previous page Next page › Contents of August 1986 All issues

Printed page