چند تاثرات
الرسالہ، اگست ۱۹۸۶، صفحہ ۲۸
مذکورہ سفر نامہ حج (۱۹۸۲) میں حسب ذیل سطریں درج ہیں :
" وہاں میں نے جو خدائی مناظر دیکھے ، جس طرح وہ ناقابل بیان ہیں ، اسی طرح وہ انسانی مناظر بھی ناقابل بیان ہیں جو وہاں مجھ کو دیکھنے کو ملے ۔ میں نے دیکھا کہ لوگ یا تو دنیا کی باتیں کرنے میں مشغول ہیں یا دنیا کا سامان خرید نے میں ۔ کچھ لوگ دوسروں کو دھکا لے کر اپنی پر جوش مذہبیت کا اظہار کر رہے تھے ۔ حالاں کہ اس قسم کی چیزیں مقامات حج میں جائز نہیں ۔
جہاں ہر طرف خدا کے جلوے بکھرے ہوئے تھے تاکہ آدمی ان میں محو ہو جائے وہاں لوگ انسانی جلوؤں میں گم تھے ۔ جہاں خدا کے فرشتے اترے ہوئے تھے تاکہ لوگ ان سے باتیں کریں وہاں لوگ انسانوں سے باتیں کرنے میں مشغول تھے ۔ جہاں ہر طرف آخرت کا سامان بک رہا تھا وہاں لوگوں کو دنیا کا سامان خرید نے کے سوا کسی اور چیز سے دل چسپی نہ تھی ۔ جس جگہ کا یہ حق تھا کہ خدا کا ڈر انھیں پیچھے کر دے وہاں لوگ دوسروں کو دھکا دے کر آگے بڑھ جانے کی مہارت دکھا ر ہے تھے ۔
چند تاثرات
مذکورہ سفر نامہ میں حج کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھا گیا ہے :
" ۴ اکتوبر ۱۹۸۲ کی شام کو ہم نے طواف وداع کیا ، اور رات کو مکہ سے مدینہ کے لیے روانہ ہوئے ۔ کعبہ کا آخری طواف کر کے جب میں حرم سے نکلا تو میری عجیب کیفیت تھی ۔ بار بار مڑ کر حرم کو دیکھتا تھا۔ قدم آگے کی طرف بڑھ رہے تھے اور دل پیچھے کی طرف کھنچا چلا جا رہا تھا ۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے میں اپنے وطن اصلی سے نکل کر وطن غیر کی طرف جا رہا ہوں ۔ اس طرح کی کیفیات کے ساتھ ہم مسجد حرام سے رخصت ہو کر4 اکتوبر کی شب کو مکہ سے مدینہ کے لیے روانہ ہوئے ۔
حرم مدینہ میں داخلہ بڑا اثر انگیز تھا ۔ اسلام اور پیغمبر اسلام کی ایک پوری تاریخ آنکھوں کے سامنے گھوم گئی ۔ میری زبان سے یہ دعا نکلی کہ خدایا ، میں تیرے رسول پر صلوٰۃ و سلام بھیجتا ہوں ۔ مجھ کو اپنے رسول کی امت میں شامل کرے ۔ مجھ کو ان لوگوں میں لکھ دے جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن شفاعت فرمائیں گے ۔ اور جن کی شفاعت کو قبول کر کے آپ انھیں جہنم سے بچائیں گے اور جنت میں داخل کریں گے ۔ کیا تعجب ہے وہ دن جو آ چکا اور کیسا تعجب ہے وہ دن
‹ Previous page Next page › Contents of August 1986 All issues