چند تاثرات
الرسالہ، اگست ۱۹۸۶، صفحہ ۲۹
مدینہ میں ہمارا قیام مسجد نبوی کے بالکل قریب ایک ہوٹل میں تھا۔ اذان اور تکبیر تک کی آواز ہمارے کمرے میں پہنچتی تھی۔ کئی دن تک مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کی توفیق نصیب ہوئی۔ مگر یہاں نمازیوں کا ہجوم اس قدر ہوتا ہے کہ بہ مشکل کسی کو سکون اور توجہ کے ساتھ نماز پڑھنے کا موقع ملتا ہے۔ مکہ کے قیام کے ابتدائی دنوں میں میرے ساتھ یہی صورت پیش آئی تھی۔ اس کے بعد میں مسجد حرام کی اوپر کی منزل پر نماز پڑھنے لگا۔ وہاں مجھے کافی سکون رہتا تھا۔ مسجد نبوی کو معلوم نہیں کس مصلحت کی بنا پر دو منزلہ نہیں بنایا گیا کہ میرے جیسا کوئی آدمی وہاں پناہ لے سکے۔ مسجد نبوی غیر معمولی طور پر وسیع اور شاندار ہے۔ مگر زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد نے تمام وسعتوں کے باوجود اس کو ناکافی بنا دیا ہے۔ تاہم میرے جیسے آدمی کے لیے یہ منظر کوئی خوش گوار منظر نہ تھا کہ مسجد نبوی کے اطراف کو دکانوں اور ہوٹلوں نے گھیر رکھا ہے۔ صرف ایک طرف کا حصہ دکانوں اور ہوٹلوں سے خالی ہے جس کے اوپر خیمہ نما تعمیرات نمازیوں کے لیے کھڑی ہوئی ہیں۔ کاش مسجد کے چاروں طرف کھلا ہوا میدان ہوتا تو مسجد کی عظمت زیادہ نمایاں ہوتی۔ تقریباً یہی صورت حال حرم مکہ کی بھی ہے۔
۳۰ ستمبر ۱۹۸۲ء کو حج کے مناسک کی تکمیل ہوئی۔ اور ہم دوبارہ مکہ واپس آئے۔ مطابق دار الثقافہ (مکہ) کی طرف سے ہر سال حاجیوں کے اعداد و شمار شائع کیے جاتے ہیں۔ اس کے اعلان کے مطابق اس سال (1402ھ) ) سعودی عرب کو چھوڑ کر دوسرے تمام ممالک سے آنے والے حاجیوں کی کل تعداد ۸۵۳۵۵۵ تھی۔ زیادہ تعداد والے چند ملکوں کے نام یہ ہیں:۔ ۱- مصر ۹۸۲۰۸ ۲- ایران ۸۹۵۰۳ ۳- نائجیریا ۸۱۱۲۸ ۴- پاکستان ۷۴۸۴۴۳ ۵- انڈونیشیا ۵۷۴۷۸ ۶- ترکی ۵۳۷۸۸ ۷- الجزائر ۴۰۴۷۰۰
‹ Previous page Next page › Contents of August 1986 All issues