نسخ کی حقیقت
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۳۷
نسخ کی حقیقت
ہندوستان ٹائمز (۴ اکتوبر ۱۹۸۵) میں صفحہ ۹ پر مسٹر اندر سین شرما کا ایک خط چھپا ہے۔ وہ مسلم نقطہ نظر کے بارے میں ایک مطبوعہ خط کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں : Syed Shahabuddin's letter is misleading. He says that an injunc- tion in the Quran is unchangeable and could not be changed by the Holy Prophet. This is far from truth as many revelations (Ayat) were cancelled and replaced in the changed circum- stances. سید شہاب الدین کا خط غلط فہمی پیدا کرنے والا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کا ایک حکم ناقابل تغیر ہے اور خود پیغمبر اسلام بھی اس کو بدل نہیں سکتے۔ یہ بات حقیقت سے بہت دور ہے۔ کیوں کہ قرآن کی بہت سی آیتیں بعد کو منسوخ کر دی گئیں اور بدلے ہوئے حالات میں دوسری آیتیں ان کی جگہ پر لائی گئیں۔ قرآن کی آیتوں میں نسخ کی یہ تشریح صحیح نہیں۔ نسخ کا مطلب کینسل کرنا نہیں ہے۔ یہ تدریج (Gradation) کی ایک صورت ہے۔ یہ دراصل حکمتِ اصلاح ہے نہ کہ کسی حکم کو مستقل طور پر کینسل کر دینا۔
قرآن کا طریقہ تدریجی اصلاح کا طریقہ ہے۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ قرآن جب کسی برائی کی اصلاح کرنا چاہتا ہے تو وہ پہلے اس کے بارہ میں ایک ابتدائی حکم دیتا ہے۔ اس ابتدائی حکم کا مقصد ذہن تیار کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد جزئی عمل کا حکم آتا ہے جو گویا قرآن کا درمیانی حکم ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس معاملہ کی آخری آیت اترتی ہے اور پورے عمل کا حکم دے دیا جاتا ہے۔
اس تدریجی قانون سازی کی ایک مثال شراب ہے۔ قرآن میں ابتداء جب شراب کے بارہ میں حکم آیا تو صرف اتنا کہا گیا کہ شراب کا گناہ اس کے فائدہ سے زیادہ ہے (البقرہ ۲۱۹) اس کے عرصہ بعد دوسرا حکم ان الفاظ میں آیا کہ جب تم نشہ کی حالت میں ہو تو نماز کے لیے مسجد میں نہ آؤ (النساء ۴۳) اس کے ایک عرصہ بعد قرآن کا آخری حکم آیا اور یہ کہا گیا کہ شراب ایک شیطانی فعل ہے، اس لیے تم اس سے مکمل پرہیز کرو (المائدہ ۹۰)
قرآن میں نسخ کی یہ ایک بہت واضح مثال ہے۔ مگر یہ پورا معاملہ حکمتِ تدریج سے تعلق رکھتا
‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues