حکمتِ اسلام
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۳۶
دوسرا فریق اپنی کارروائی کرنے کے لیے پوری طرح آزاد تھا۔ یہی وہ فرق ہے جس کی بنا پر قبیلہ ہو ازن سے مقابلہ کیا گیا اور قبیلہ ثقیف سے مقابلہ نہیں کیا گیا۔ ایک قبیلہ کے مقابلہ میں جو چیز "ناسخ" کی حیثیت رکھتی تھی وہ دوسرے قبیلہ کے معاملہ میں "منسوخ" قرار پائی۔
قرآن میں فکر و عمل کا جو معیار بتایا گیا ہے وہ بلاشبہ مستقل ہے۔ مگر عملی تقاضے ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے شخصی مزاج اور اجتماعی احوال میں فرق کا یہ تقاضا ہوتا ہے کہ اسی کے لحاظ سے شریعت کے انطباق میں بھی فرق کیا جائے۔ یہ فرق ابدی نہیں ہوتا بلکہ حالات کی بنا پر صرف وقتی ہوتا ہے۔ دین میں اگر یہ حکمت موجود نہ ہو تو وہ ابدی دین نہیں ہو سکتا اور نہ اس کی دعوتی مہم کو نتیجہ خیز طور پر موجودہ اسباب کی دنیا میں چلایا جا سکتا ہے ۔
مثلاً قبیلہ ہو ازن اور قبیلہ ثقیف دونوں کے معاملہ میں یکساں طور پر یہ مطلوب تھا کہ انہیں اسلام کے ماتحت لایا جائے۔ مگر انھیں اسلام کے تحت لانے کے لیے آپ نے دو الگ الگ طریقہ اختیار فرمائے۔ ہو ازن کے معاملہ میں اگر جنگ مطلوب تھی تو ثقیف کے معاملہ میں جنگ منسوخ قرار پائی۔ اسی طرح ثقیف کے معاملہ میں اگر غیر جنگی طریقہ کار مطلوب تھا تو ہو ازن کے معاملہ میں وہ متروک قرار دیدیا گیا۔ ڈاکٹر رین ہولڈ (Dr. Reinhold Niebuhr) نے اپنی ایک پسندیدہ دعا لکھی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: خدا مجھے وہ متانت دے کہ میں ان چیزوں کو قبول کر سکوں جن کو میں بدل نہیں سکتا۔ وہ مجھے حوصلہ دے کہ میں ان چیزوں کو بدلوں جن کو میں بدل سکتا ہوں۔ اور خدا مجھے وہ عقل دے کہ میں فرق کو جان سکوں :
God grant me the serenity To accept the things I cannot change; The courage to change the things I can; And the wisdom to know the difference. ڈاکٹر رین ہولڈ نے اسی بات کو فطرت کی زبان میں کہا ہے جس کو حضرت علی نے شریعت کی زبان میں فرمایا۔ اجتماعی زندگی کی سب سے بڑی دانش مندی یہ ہے کہ آدمی ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو جانے۔ اسی فرق کو جاننے میں تمام اجتماعی کامیابیوں کا راز چھپا ہوا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues