تجدید ایمان
الرسالہ، اگست ۱۹۸۶، صفحہ ۳۱
بھی حج ادا کیے بغیر مر جائے تو خدا کو اس کی پرواہ نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرا یا نصرانی ہو کر مراد (من ملك زاداً وراحلة تبلغه حج بيت الله الحرام ولم يحج فلا عليه ان يموت يهوديا او نصرانيا، رواه الترمذی والبيهقی)
اسلام کا خلاصہ اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرنا ہے۔ حج میں یہ جو انگلی پوری طرح عمل میں آتی ہے۔ عرفات کے میدان میں جب تمام حاجی " حاضر ہوں خدایا میں حاضر ہوں کہتے ہوئے جمع ہوتے ہیں تو یہ اسی بات کا ایک اجتماعی مظاہرہ ہوتا ہے ۔ حج گویا خدا کے سامنے حاضری ہے۔ قیامت میں ہر شخص گرفتار کر کے خدا کے یہاں حاضر کیا جائے گا ، حج کے موقع پر عرفات کے میدان میں ہو پہنچنا گویا خود اپنی مرضی سے خدا کے یہاں حاضر ہو جانا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ حج تمام عبادتوں کا سردار ہے۔ کعبہ کا جو درجہ دوسری مسجدوں کے درمیان ہے وہی درجہ حج کا دوسری عبادتوں کے درمیان ۔
تذکیر القرآن
تذکیر القرآن جلد دوم (تا سورہ الناس مکمل ہو گئی ہے۔ انشاء اللہ جلد شائع ہو جائے گی۔ قیمت میں اضافہ تمام چیزوں میں غیر معمولی اضافہ کی وجہ سے الرسالہ کے اخراجات ناقابل برداشت حد تک بڑھ گئے ہیں۔ چنانچہ یہ تجویز ہے کہ الرسالہ کی قیمت میں اضافہ کر کے فی شمارہ چار روپیہ اور سالانہ ۴۸ روپے کر دیا جائے ۔ اس سلسلہ میں آخری اعلان آئندہ کیا جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1986 All issues