تجدید ایمان
الرسالہ، اگست ۱۹۸۶، صفحہ ۳۰
سعودی حکومت نے بے شمار اعلیٰ انتظامات کیے ہیں۔ ان انتظامات نے موجودہ زمانہ میں حج کو بہت آسان بنا دیا ہے ۔ تاہم ایک چیز ایسی ہے جس کا اس کے پاس شاید کوئی حل نہیں۔ اور وہ حاجیوں کا ہجوم ہے۔ خاص طور پر شیطان کو پتھر مارنے کے موقع پر لوگ جس طرح ایک دوسرے کے اوپر ٹوٹتے ہیں وہ انتہائی حد تک افسوس ناک ہے۔ بے شمار انسان بیک وقت شیطان کو مارنے کے لیے اس طرح ہجوم کرتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ علامتی شیطان کو کنکری مارنے کا انھیں اتنا جوش ہے کہ اس کی خاطر وہ حقیقی انسان کو کچل دینا چاہتے ہیں۔ خدا کے ایک حکم کی تعمیل کے شوق میں خدا کے دوسرے حکم کو نظر انداز کرنے کی اس سے زیادہ بڑی مثال اب تک میں نے اپنی نگاہوں سے نہیں دیکھی تھی ۔ کئی آدمی ایسے نظر پڑے جن کے ہاتھ یا پاؤں میں پلاسٹر بندھا ہوا تھا۔ ایک منظر یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ رمی کے وقت ایک حاجی گر پڑا اور حاجیوں کے قدموں کے نیچے کچل کر ختم ہو گیا۔ لوگوں نے بتایا کہ اس طرح کے واقعات ہر سال ہوتے رہتے ہیں۔ کیسا عجیب ہے وہ حج جس میں انسان دشمن کی ایک علامت کو مارنے کے جوش میں خود انسان کو مار ڈالا جائے ۔
تجدید ایمان
حج ایک قسم کا تجدید ایمان ہے ۔ حج سے پہلے کا ایمان گویا ایک موقت ایمان ہے۔ اس کے بعد مومن جب کہ پہونچتا ہے اور لبیک لبیک کہہ کر بیت اللہ کا طواف کرتا ہے تو گویا وہ اپنے ایمان کی تجدید کرتا ہے ۔ وہ براہ راست خدا سے ”بیعت“ ہوتا ہے۔
حج کے بعد گناہوں کی معافی عین اس قانون کے تحت ہے جو قبولیت اسلام سے متعلق ہے۔ اسلام قبول کرنے بعد آدمی کے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بندے کے ساتھ یہ معاملہ ایمان اول کے بعد شروع ہو جاتا ہے۔ اور ایمان ثانی کے بعد گویا اس کی تکمیل ہوتی ہے۔ ایمان اول اگر بالواسطہ ایمان تھا تو ایمان ثانی براہ راست ایمان ہے ۔ معذوری کی حالت میں ایمان اول ہی خدا کی رحمت سے آدمی کے گناہوں کی معافی کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ مگر صاحب استطاعت کے لیے ایمان ثانی ذکر
‹ Previous page Next page › Contents of August 1986 All issues