حج اور اتحاد
الرسالہ، اگست ۱۹۸۶، صفحہ ۳۳
اس لیے کی گئی تھی کہ وہ اہلِ توحید کا مرکز بنے۔ قریب کے لوگ بھی آئیں اور دور کے لوگ بھی سواریوں کے ذریعہ وہاں پہنچیں۔ کعبہ کے گرد ایسے تاریخی اسباب پیدا کیے گئے کہ لوگوں کے دل اس کی طرف کھنچیں، اور ہر طرف سے لوگ امنڈ کر وہاں پہنچیں۔ بیٹھے اللہ قیامت تک کے لیے خدا کا مقرر کیا ہوا عالمی اسلامی مرکز ہے۔ وہ تمام دنیا کے مسلمانوں کا بین الاقوامی اجتماع گاہ ہے۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو حکم دیا کہ لوگوں سے پکار کر کہو کہ وہ سفر کر کے اس گھر کے حج کے لیے آئیں :
قال يا رب كيف ابلغ الناس وصوتي لا ينفذهم حضرت ابراہیم نے کہا کہ اے میرے رب کیسے میں فقال ناد وعلينا البلاغ ۔ فقام علی الحجر لوگوں کو پکاروں اور میری آواز ان تک نہیں وقال يا ايها الناس ان ربكم قد اتخذ پہنچنے گی۔ اللہ نے کہا تم پکارو اور ہمارے اوپر بيتا فحجوه ـ فيقال ان الجبال تواضعت ہے پہونچانا۔ پس حضرت ابراہیم پتھر پر کھڑے حتى بلغ الصوت ارجاء الارض وسمع ہوئے اور کہا کہ اے لوگو، تمہارے رب نے ایک من فى الارحام والاصلاب واجابه گھر مقرر کیا ہے، تم اس کا حج کرو۔ پس کہا جاتا ہے كل شي سمعة من حجر ومدر وشجر کہ پہاڑ جھک گئے یہاں تک کہ آواز زمین کے ومن كتب الله انه يحج الى يوم کناروں تک پہونچ گئی اور انھوں نے بھی سن لیا القيامة ، ببيك اللهم لبيتك ۔ جو رحم میں تھے۔ اور پتھر اور خیمہ اور درخت اور (تفسیر ابن کثیر، الجزء الثالث، صفحه ۲۱۶) جس پر قیامت تک اللہ نے لکھ دیا تھا کہ وہ حج کرے گا سب نے سنا اور یہ کہا : ہم حاضر ہیں خدایا ہم حاضر ہیں ۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ حضرت ابراہیم نے جس وقت پکارا عین اسی وقت حال اور مستقبل کے تمام لوگوں نے آپ کی آواز کو سن لیا۔ حضرت ابراہیم کی پکار علامتی پکار تھی۔ بے شک تمام لوگوں نے اس کو سنا۔ مگر یہ سننا اس وقت بالقوہ طور پر تھا نہ کہ بالفعل طور پر۔ حضرت ابراہیم کی پکار در اصل ایک مسلسل واقعہ کا آغاز تھا۔ آپ نے اپنے وقت میں پکارا۔ آپ کے بعد دوسرے لوگوں نے آپ کی آواز کو لے کر اسے دوسروں کو سنایا۔ پھر اسی طرح لوگ نسل در نسل پکارتے رہے۔ پریس اور ریڈیو کا دور
‹ Previous page Next page › Contents of August 1986 All issues