حج کی اجتماعیت
الرسالہ، اگست ۱۹۸۶، صفحہ ۳۸
جو’’لو ہے‘‘ کے تمام ٹکڑوں کو ایک نقطہ پر کھینچے چلا جارہا ہے ۔
مختلف ملکوں کے یہ لوگ جب مقام حج کے قریب پہنچتے ہیں تو سب کے سب اپنا قومی لباس اتار دیتے ہیں اور سب کے سب ایک ہی مشترک لباس پہن لیتے ہیں جس کو احرام کہا جاتا ہے۔ احرام باندھنے کا مطلب یہ ہے کہ بغیر سلی ہوئی ایک سفید چادر نیچے تہمد کی طرح پہن لی جائے اور اسی طرح ایک سفید چادر اوپر سے جسم پر ڈال لی جائے۔ اس طرح لاکھوں انسان ایک ہی وضع اور ایک ہی رنگ کے لباس میں ملبوس ہو جاتے ہیں ۔
یہ سارے لوگ مختلف مراسم ادا کرتے ہوئے بالآخر عرفات کے وسیع میدان میں اکھٹا ہوتے ہیں۔ اس وقت ایک عجیب منظر ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے انسانوں کے تمام فرق اچانک مٹ گئے ہیں۔ انسان اپنے تمام اختلافات کو کھو کر خدائی وحدت میں گم ہو گئے ہیں۔ تمام انسان ایک ہو گئے ہیں جیسے ان کا خدا ایک ہے ۔
عرفات کے وسیع میدان میں جب احرام باندھے ہوئے تمام حاجی جمع ہوتے ہیں اس وقت کسی بلندی سے دیکھا جائے تو ایسا نظر آئے گا کہ زبان ، رنگ ، حیثیت ، جنسیت کے فرق کے باوجود سب کے سب انسان بالکل ایک ہو گئے ہیں ۔ اس وقت مختلف قومیتیں ایک ہی بڑی قومیت میں ضم ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حج اجتماعیت کا اتنا بڑا مظاہرہ ہے کہ اس کی کوئی دوسری مثال غالباً دنیا میں کہیں اور نہیں ملے گی ۔
کعبہ مسلمانوں کا قبلہ عبادت ہے ۔ مسلمان ہر روز پانچ وقت اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ گویا ساری دنیا کے مسلمانوں کا عبادتی قبلہ ایک ہی ہے ۔ عام حالت میں وہ ایک تصوراتی حقیقت ہوتا ہے۔ مگر حج کے دنوں میں مکہ پہنچ کر وہ ایک آنکھوں دیکھی حقیقت بن جاتا ہے۔ ساری دنیا کے مسلمان یہاں پہنچ کر جب اس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے ہیں تو محسوس طور دکھائی دینے لگتا ہے کہ تمام دنیا کے مسلمانوں کا مشترک قبلہ ایک ہی ہے ۔ کعبہ ایک چو کور قسم کی اونچی عمارت ہے ۔ اس عمارت کے چاروں طرف گول دائرہ میں سارے لوگ گھومتے ہیں جس کو طواف کہا جاتا ہے ۔ وہ صف بہ صف ہو کر اس کے گرد گول دائرہ میں عبادت کرتے ہیں۔ حج کے دوران وہ ان کی تمام توجہ کا مرکز بنا رہتا ہے۔ اس طرح حج ایک ایسی
‹ Previous page Next page › Contents of August 1986 All issues