حج کی اجتماعیت
الرسالہ، اگست ۱۹۸۶، صفحہ ۳۷
حج کی اجتماعیت
حج اسلام کی ایک نہایت اہم سالانہ عبادت ہے ۔ وہ قمری کلنڈر کے آخری ماہ ذوالحجہ میں ادا کیا جاتا ہے ۔ حج کی عبادت کے مراسم بیت اللہ (مکہ) میں یا اس کے آس پاس کے مقامات پر ادا کیے جاتے ہیں جو عرب میں واقع ہے ۔ اس عبادت کو تمام عبادتوں کا جامع کہا جاتا ہے چنانچہ اس میں ہر قسم کے عبادتی پہلو پائے جاتے ہیں ۔ انھیں میں سے ایک اجتماعی پہلو بھی ہے حج کی عبادت میں اجتماعیت کا پہلو بہت نمایاں طور پر موجود ہے ۔ انسائیکلو پیڈیا برٹشینکا (۱۹۸۳) میں حج کی تفصیل دیتے ہوئے یہ جملہ لکھا گیا ہے :
About 2,000,000 persons perform the Hajj each year, and the rite serves as a unifying force in Islam by bringing followers of diverse background together in religious celebration. Encyclopedia Britannica, 1985, Vol IV, p. 844 تقریباً دو ملین آدمی ہر سال حج کرتے ہیں اور یہ عبادت مختلف ملکوں کے مسلمانوں کو ایک مذہبی تقریب میں یکجا کر کے اسلام میں اتحادی طاقت کا کام کرتی ہے ۔
قرآن میں حج کا حکم دیتے ہوئے یہ الفاظ آئے ہیں : واذ جعلنا البيت مثابة للناس وامنأ ( البقره ۱۲۵) یعنی خدا نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے مشابہ بنایا اور اس کو امن کی جگہ بنا دیا۔ مشابہ کے معنی عربی زبان میں تقریباً وہی ہیں جس کو آج کل کی زبان میں مرکز کہا جاتا ہے ۔ یعنی وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہوں ۔ جس کی طرف سب لوگ رجوع کریں جو سب کا مشترک مرجع اور شیرازہ ہو ۔
حج کی عبادت کے لیے ساری دنیا سے ہر ہر ملک کے لوگ آتے ہیں ، ہر ہر قوم کے لوگ آتے ہیں۔ ان کی تعداد سالانہ تقریباً ۲۵ لاکھ ہو جاتی ہے ۔ حج کے موسم میں مکہ اور اس کے آس پاس ہر طرف آدمی ہی آدمی دکھائی دینے لگتے ہیں ۔ یہ لوگ مختلف زبانیں بولتے ہیں ۔ ان کے حلیے الگ الگ ہوتے ہیں ۔ مگر یہاں آنے کے بعد سب کی سوچ ایک ہو جاتی ہے ۔ سب ایک ہی مشترک نشانہ پر چلتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی ربانی مقناطیس ہے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1986 All issues