Al-Risala · January 1986 · page 2

ایک کردار

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۲

ایک کردار

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي أَتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ فَكَانَ مِنَ الْغَاوِينَ - وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ذَلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ (الاعراف ۱۷۵ - ۱۷۶)

اور ان کو اس شخص کا حال سناؤ جس کو ہم نے اپنی نشانیاں دیں تو وہ ان کو چھوڑ کر نکل بھاگا ۔ پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا تو وہ گمراہوں میں سے ہو گیا ۔ اور اگر ہم چاہتے تو ہم ان نشانیوں کی بدولت اس کا رتبہ بلند کر دیتے ۔ مگر وہ زمین کا ہو رہا اور اس نے اپنی خواہش کی پیروی کی ۔ تو اس کا حال ایسا ہے جیسے کتا ، تم اس پر بوجھ لادو تب بھی ہانپے اور چھوڑ دو تب بھی ہانپے۔ یہ مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری نشانیوں جھٹلایا۔ پس تم ان احوال کو بیان کرو شاید کہ وہ غور کریں۔ کیا ہی بری حجت ہے ان لوگوں کی جو ہماری آیات اللہ تعالیٰ ایک شخص کے لیے ایسے حالات برپا کرتا ہے کہ وہ حق کا اعتراف کرے اور پھر اعترافِ حق کا انعام پائے مگر اس کی خودی اس کے اعتراف کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایک شخص کے سامنے ایسے مواقع کھولتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس میں استعمال کرے اور خدا کے دین کا خادم بنے مگر وہ اپنی سطحی خواہشات سے ایسا مغلوب ہوتا ہے کہ ان مواقع کو استعمال نہیں کر پاتا ۔ اللہ تعالیٰ ایک شخص کے سامنے ایسے دروازے کھولتا ہے کہ وہ اس میں داخل ہو کر اپنی اصلاح کرے اور نیک اعمال کر کے خدا کی رحمت و مغفرت کا مستحق بنے، مگر اپنے جھوٹے تقاضوں کی اہمیت اس کے ذہن پر اس طرح چھاتی ہے کہ وہ اس دروازہ میں داخل نہیں ہوتا یا داخل ہوتا ہے تو اپنی نفسیاتی بیماریوں کی وجہ سے جلد ہی اس سے نکل بھاگتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی عقل پر ان کی خواہشات نے غلبہ پالیا۔ وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو گئے۔ وہ دروازہ کھولے جانے سے پہلے بھی محروم تھے اور دروازہ کھولے جانے کے بعد بھی وہ محروم ہے ۔

صِندلی کی حیثیت سے چھپتا ہے کلامِ اُردو

‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues

Printed page