زندگی کا امتحان
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۳
زندگی کا امتحان
اللہ تعالیٰ نے شیطان کو حکم دیا کہ وہ آدم کے آگے جھک جائے ۔ مگر شیطان آدم کے آگے نہیں جھکا۔ اس نے کہا کہ میں آدم سے بہتر ہوں (انا خیر منہ) پھر میں کمتر کے آگے کیوں جھکوں ۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا کر دار فرشتوں کا تھا جو حکم ہوتے ہی فوراً آدم کے سامنے جھک گئے۔
آدم کی پیدائش کے وقت مذکورہ واقعہ کا پیش آنا گویا اس بات کا اعلان تھا کہ یہی معر کہ تمام انسانوں کے ساتھ پیش آئے گا۔ اس طرح تخلیق انسانی کے آغاز ہی میں یہ بتا دیا گیا کہ تمہارا اصل امتحان کہاں ہونے والا ہے ۔ انسان کو موجودہ دنیا میں یہ ثبوت دینا ہے کہ اس کی بڑائی کا بت ٹوٹے پھر بھی وہ اس کو گوارا کرے۔ دوسرے کے مقابلے میں اس کو چھوٹا مقام ملے پھر بھی وہ اس پر راضی ہو جائے۔ اس کے احساس برتری کو کچلا جائے پھر بھی وہ حق وانصاف کے راستے سے نہ ہٹے ۔ اس کی عظمت کا قلعہ اس کی آنکھوں کے سامنے ڈھایا جائے پھر بھی وہ اس کا استقبال کرے ۔
زندگی ایک ایسا امتحان ہے جس میں بار بار آدم کی مذکورہ کہانی دہرائی جاتی ہے یہاں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کی بڑائی ٹوٹتی ہے ۔ ایک شخص کو دوسرے شخص کے مقابلہ میں کم تر مقام پر راضی ہونا پڑتا ہے ۔ اب جو لوگ ایسے مواقع پر اپنے کو چھوٹا بنانے پر راضی ہو جائیں وہ فرشتوں کے ہم نشیں قرار پاتے ہیں ۔ اس کے برعکس جو لوگ اپنی بڑائی کا بت ٹوٹنا برداشت نہ کریں اور اس " آدم " کے آگے جھکنے پر راضی نہ ہوں جس کو اللہ نے ان کے مقابلے میں بڑائی دی تھی وہ شیطان کے بھائی ہیں ۔ ان کے لیے آخرت میں وہی انجام مقدر ہے جو ان کے پیش رو ابلیس کا ہونے والا ہے ۔ زندگی ایک ایسا معرکہ ہے جس میں جیتے جی اپنے کو ہلاک کرنا پڑتا ہے ۔ جس میں خود اپنے ہاتھ سے اپنی قبر بنا کر اس میں لیٹ جانا پڑتا ہے ۔ زندگی ناقابلِ برداشت کو برداشت کرنے کا امتحان ہے ۔ جو لوگ اس ناقابل برداشت کو برداشت کرنے پر راضی ہوں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کے ان باغوں میں جگہ پائیں گے جو ہر قسم کی ناخوش گواریوں سے پاک ہو، جہاں دوبارہ کچھ بھی برداشت نہ کرناپڑے۔ جہاں انسان کو ہمیشہ کے لیے آزادی اور خوشی کی لامحدود دنیا حاصل ہوجائے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues