Al-Risala · August 1986 · page 43

مرکز اتحاد

الرسالہ، اگست ۱۹۸۶، صفحہ ۴۳

اندر اگراس کا حقیقی شعور ہو اور وہ اس سے وہ سبق لے سکیں جس کے لیے یہ عظیم الشان نظام بنایا گیا ہے تو مسلمانوں کی زندگی میں ایک انقلاب آجائے ۔ ان کا ہر فرد ایک عالم گیر مقدّس اجتماعیت کے ساتھ متحد ہو جائے ۔

حقیقت یہ ہے کہ کعبہ زمین پر خدا کا نشان ہے اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کے اتحاد اور اجتماعیت کا نشان بھی ۔

ایکتا کے اس عظیم تربیتی نظام ہی کا یہ بھی ایک ظاہری پہلو ہے کہ تمام لوگوں سے ان کے انفرادی لباس اتروا کر سب کو ایک ہی سادہ لباس پہنا دیا جاتا ہے ۔ یہاں بادشاہ اور رعایا کا فرق مٹ جاتا ہے ۔ یہاں مشرقی لباس اور مغربی لباس کے امتیازات فضا میں گم ہوجاتے ہیں ۔ احرام کے مشترک لباس میں تمام لوگ اس طرح نظر آتے ہیں جیسے کہ تمام لوگوں کی صرف ایک حیثیت ہے ۔ تمام لوگ صرف ایک خدا کے بندے ہیں ۔ اس کے سوا کسی کو کوئی اور حیثیت حاصل نہیں ۔

حج کے مقررہ مراسم اگرچہ مکہ میں ختم ہوجاتے ہیں مگر بیشتر حاجی حج سے فارغ ہو کر مدینہ بھی جاتے ہیں ۔ مدینہ کا قدیم نام یثرب تھا۔ مگر پیغمبر اسلام نے اپنی زندگی کے آخری زمانہ میں اس کو اپنا مرکز بنایا۔ اس وقت سے اس کا نام مدینۃ النبی (دینی کا شہر ) پڑگیا ۔ مدینہ اسی کا اختصار ہے ۔ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنائی ہوئی مسجد ہے۔ یہاں آپ کی قبر ہے ۔ یہاں آپ کی پیغمبرانہ زندگی کے نشانات بکھرے ہوئے ہیں ۔

ان حالات میں حاجی جب مدینہ پہو نچتے ہیں تو یہ ان کے لیے مزید اتحاد اور اجتماعیت کا عظیم سبق بن جاتا ہے ۔ یہاں کی مسجد نبوی میں وہ اس یاد کو تازہ کرتے ہیں کہ ان کا رہنما صرف ایک ہے ۔ وہ یہاں سے یہ احساس لے کر لوٹتے ہیں کہ ان کے اندر خواہ کتنے ہی جغرافی اور قومی فرق پائے جاتے ہوں ، انھیں ایک ہی پیغمبر کے بتائے ہوئے راستہ پر چلنا ہے ۔ انھیں ایک ہی مقدس ہستی کو اپنی زندگی کا رہنما بنانا ہے ۔ وہ خواہ کتنے ہی زیادہ اور کتنے ہی مختلف ہوں مگر ان کا خدا بھی ایک ہے اور ان کا پیغمبر بھی ایک ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1986 All issues

Printed page