رسول اللہ کا کردار
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲
رسول اللہ کا کردار
طائف کی وہ شام بھی کس قدر بھیانک تھی جب شہر کے لڑکے پیغمبرِ اسلام کو پتھر مار مار کر شہر سے باہر لے جا رہے تھے۔ آپ مکہ سے پچاس میل کا سفر طے کر کے حجاز کے رئیسوں کے گرمائی صدر مقام پہنچے تھے تاکہ انھیں دینِ اسلام کی دعوت دیں۔ مگر طائف کے رئیسوں نے آپ کے خیر خواہانہ پیغام کو سننے کے بجائے شہر کے اوباش لڑکوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا۔ یہ لڑکے اس وقت تک آپ کا پیچھا کرتے رہے جب تک سورج نے غروب ہو کر آپ کے اور ان لڑکوں کے درمیان تاریکی کا پردہ نہ ڈال دیا۔
آپ کا جسم زخموں سے چور تھا۔ سر سے پیر تک آپ خون میں نہائے ہوئے تھے۔ اس وقت آپ نے تھک کر انگور کے ایک باغ میں پناہ لی۔
غور کیجئے کسی آدمی کے لئے کتنا نازک وقت ہوتا ہے۔ آپ نے خود ایک بار حضرت عائشہ سے فرمایا کہ طائف کی یہ شام میری زندگی کی سخت ترین شام تھی۔ مگر آپ کی زبان سے اس انتہائی سنگین موقع پر بھی اپنے دشمنوں کے خلاف کوئی برا کلمہ نہیں نکلا۔ بلکہ آپ نے فرمایا۔ " خدایا انھیں صحیح راستہ دکھا۔ کیوں کہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ "
رسول اللہ کا یہی اخلاق تھا جس نے آپ کے دشمنوں کو اس طرح زیر کیا کہ سارے عرب نے آپ کے پیغام کو قبول کر لیا۔ آپ کے اعلیٰ کردار کے آگے کوئی تعصب، کوئی دشمنی اور کوئی ہٹ دھرمی ٹھہر نہ سکی۔ آپ کی بلند سیرت لوگوں کو جادو کی طرح مسخر کرتی چلی گئی۔
آپ نے ایک بار فرمایا " صلہ رحمی یہ نہیں ہے کہ صلہ رحم کرنے والوں کے ساتھ صلہ رحم کرو۔ بلکہ یہ ہے کہ جو قطع رحم کرے اس کے ساتھ صلہ رحم کرو۔ (بخاری۔ کتاب الادب) تاریخ اسلام کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک بار اسلام کے کچھ دشمنوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ پر زنا کی تہمت لگائی جو قطعا جھوٹ اور بے بنیاد تھی۔ اس فی داستان کو گھڑلے اور اس کو پھیلانے میں ایک شخص مسطح نامی بھی شریک تھا جو حضرت ابو بکر رض کا رشتہ دار تھا۔ اس شخص کو ضرورت مند سمجھ کر حضرت ابو بکر اس کو کچھ ماہانہ رقم دیا کرتے تھے۔ جب حضرت ابو بکر کو معلوم ہوا کہ ان کی صاحبزادی پر جھوٹی تہمت لگانے میں مسطح بھی شریک رہا ہے، تو آپ نے اس کی امدادی رقم بند کر دی۔ اس پر اللہ کے رسول کے اوپر یہ آیت اتری کہ اگر کوئی شخص معاشی حیثیت سے ضرورت مند ہے تو اس کے اخلاقی جرم
‹ Previous page Next page › Contents of September 1986 All issues